تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 28 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 28

28 حضرت عیسی علیہ السلام کے سفر ہجرت کی تحقیقات کے لئے حضرت اقدس کی تحریک پر آپ نے اپنے تئیں پیش کیا لیکن بعد میں کسی وجہ سے سفر نصیبین کی تجویز رہ گئی۔طبابت : آپ خود ایک طبیب تھے اور تقسیم ہند سے قبل لمبا عرصہ تک قادیان میں حکمت کرتے رہے۔وفات : تقسیم برصغیر کے وقت اکتوبر ۱۹۴۷ء کو راولپنڈی میں سکونت اختیار کی اور ۲۵ اکتو بر ۱۹۴۸ءسیالکوٹ میں وفات پاگئے۔آپ کی وصیت نمبر ۴۶ تھی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ نمبرے حصہ نمبر ۲ میں ہوئی۔اولاد: آپ کے تین بیٹے مکرم محد الحق صاحب ہمکرم ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب ہکرم محمد یوسف صاحب تھے اور ایک بیٹی مکرمہ عائشہ بی بی صاحبہ تھیں۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ (۲) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد نمبر ۱۰ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۳ (۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد نمبر۱۲ (۵) نور القرآن نمبر ۲ (۶) تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحه ۶۸ (۷) ماہنامہ انصار اللہ ربوہ ستمبر ۱۹۹۹ء۔☆ ۷۔حضرت منشی روڑ ا صاحب۔۔۔۔۔کپور تھلہ صاحب ولادت : ۱۸۳۹ء۔بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات: ۲۵ /اکتوبر ۱۹۱۹ء ابتدائی حالات: حضرت خانصاحب منشی محمد اروڑا خان رضی اللہ عنہ کپورتھلوی محلہ قصاباں کپورتھلہ ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا نام محمد جیون صاحب تھا۔کم عمری میں والد صاحب کے انتقال کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔آپ نے کچہری میں ملازمت اختیار کرلی۔حضرت اقدس علیہ السلام کی زیارت و بیعت: حاجی ولی اللہ صاحب کے ذریعے آپ کو حضرت مسیح موعود کی کتاب ”براہین احمدیہ دستیاب ہوئی جس سے حضرت مسیح موعود کی محبت آپ کے دل میں جاگزیں ہوگئی اور زیارت کے لئے بے چین ہو گئے۔۱۸۸۴ء میں بمقام بٹالہ حضرت اقدس کی ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور لدھیانہ میں بیعت اولیٰ کے موقع پر بیعت کرنے والوں میں شامل ہو گئے۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کی ہے جہاں ولدیت جیون محلہ قصاباں کپور تھلہ درج ہے۔اس وقت آپ نقشہ نویس ملازم تھے۔خان صاحب کا خطاب: آپ کی ملازمت میں ترقی تدریجی تھی۔پہلے کچہری میں چپڑاسی تھے پھر اہلمد ہوئے۔پھر نقشہ نویس ہوئے اس کے بعد نائب تحصیلدار ہو گئے اور پھر تحصیلدار بن کر ۱۹۱۴ ء میں ریٹائر ہوئے۔ریاست کی طرف سے آپ کو خانصاحب کا خطاب ملا۔تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو حضرت اقدس مسیح موعود کی باتوں کو خدا نے کیسا سچ ثابت کیا۔آپ نے میرے متعلق لکھا کہ سچائی کے کاموں میں یہ شخص بہادر ہے۔اب