تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 27 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 27

27 گوجرانوالہ میں ہوئی۔آپ کے والد صاحب کا نام مولوی غلام حسین صاحب تھا جو کھوکھر راجپوت تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی۔ازاں بعد ضلع جہلم کے مشہور عالم دین ( یکے از ۳۱۳) مولوی خان ملک کہیوال سے عربی علم حاصل کیا۔جن ایام میں آپ لدھیانہ میں مولوی عبدالقادر صاحب سے پڑھتے تھے وہاں میر عباس علی لدھیانوی بھی پڑھنے آتے تھے۔انہی دنوں سرسید احمد خان بھی لدھیانہ آئے تھے۔حضرت اقدس کی زیارت : حضرت اقدس لدھیانہ تشریف لے گئے جہاں آپ کے قیام کا بندوبست محلہ نواں پنڈ میں تھا۔ریلوے اسٹیشن پر پچاس آدمی استقبال کے لئے موجود تھے۔حضرت اقدس گاڑی سے باہر تشریف لائے مولوی صاحب کا بیان ہے کہ حضرت اقدس کا چہرہ مبارک دیکھتے ہی آنکھیں پر نم ہو گئیں۔طبیعت نے پلٹا کھایا اور یوں معلوم ہوا کہ پاؤں تلے سے زمین نکلی جا رہی ہے۔دل پر ایسا اثر ہوا کہ جسم اندر سے پگھلا ہوا محسوس ہوا۔اس وقت حضرت اقدس کا دعوی کا موریت تھا۔جب پہلی مرتبہ قادیان گئے تو ایک نشان کے گواہ ٹھہرے جس دن حضرت صاحب کے کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کا واقعہ ہوا اس دن آپ بھی قادیان میں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر تھے۔تلاش حق : بیعت سے قبل آپ نے ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ میں حضور کو صادق سمجھتا ہوں لیکن جس رنگ کا اثر اہل اللہ کی صحبت کا سنا جاتا ہے وہ حضور کی صحبت میں بیٹھ کر اپنے اندر نہیں پاتا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ملک کا چکر لگائیں اور دیکھیں کہ جس قسم کے اہل اللہ آپ تلاش کرتے ہیں اور جو اثر آپ چاہتے ہیں وہ دنیا میں کہیں موجود بھی ہے یا نہیں۔چنانچہ آپ نے اس غرض سے اجمیر، بمبئی، حیدرآباد دکن، کلکتہ وغیرہ کا چکر لگایا اور واپسی پر حضرت اقدس سے بٹالہ میں ملاقات ہوئی۔بیعت اس عرصہ میں آپ کو ایک شخص چراغ دین ٹھیکیدار کے ذریعہ حضرت اقدس کی کتاب ازالہ اوہام ملی۔بد ولی کے نمبر دار منشی سرفراز خان صاحب کو لے کر آپ قادیان پہنچے۔حکیم مولانا نورالدین (خلیفتہ المسیح الاول) کی تحریک پر آپ نے حضرت اقدس کی بیعت ۱۸۹۲ء میں کی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام میں شرکاء جلسہ ۱۸۹۲ء میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔آریہ دھرم میں پُر امن جماعت کے احباب ساکنین قادیان میں آپ کا نام درج ہے۔نیز کتاب البریہ میں پُر امن احباب کا ذکر کرتے ہوئے واعظ۔۔۔بدوملہی اور سراج منیر میں آپ کا نام چندہ دہندگان میں ہے۔نور القرآن میں آپ کا نام ان احباب میں جو امام کامل کے پاس حاضر ہیں، نمبر ۳ پر تحریر ہے۔سلسلہ احمدیہ کے لئے خدمات: ایک دفعہ حضرت اقدس نے آپ کو تبلیغ کے لئے لاہور بھیجا تو چھ مہینے لاہور میں فریضہ تبلیغ سرانجام دیتے رہے۔اسی طرح تبلیغ کے لئے حضرت اقدس نے آپ کو کئی دفعہ امرتسر، گوجرانوالہ، گجرات سیالکوٹ، فیروز پور ، لدھیانہ، انبالہ، رڑ کی اور سہارن پور وغیرہ بھیجا۔