تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page v of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page v

i بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعَوْدِ پیش لفظ ( طبع اول) سورۃ الجمعہ میں حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا ذکر و آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (آیت:۴) میں کیا گیا ہے۔یہ بعثت ثانیہ اس جماعت میں مقدر تھی جولَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ یعنی صحابہ کی پہلی مقدس جماعت سے ابھی نہیں ملے۔اس کا ذکر صحیح بخاری میں اس طرح ہے۔صلى الله عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِندَ النَّبِيِّ لا فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ ( وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ) قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمُ صلى الله يُرَاجِعُهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلاثًا ، وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ لا يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ۔(جامع صحیح بخاری کتاب التفسير سورة الجمعة حدیث نمبر 4897) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے تو آپ پر سورۃ الجمعۃ نازل ہوئی جس میں آیت وَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں۔مگر آپ نے توجہ نہ فرمائی یہاں تک کہ میں نے تین مرتبہ عرض کیا اور ہمارے درمیان حضرت سلمان فارسی بھی تھے آپ نے حضرت سلمان فارسی پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تو اس شخص کی قوم سے رجال یا رجل ایمان کو دوبارہ قائم کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود و مہدی معہود نے اس پیشگوئی کا ذکر اپنی کتاب انجام آتھم میں فرمایا ہے۔آپ زیرعنوان ” ایک پیشگوئی کا پورا ہونا‘ فرماتے ہیں:۔چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیشگوئی آج پوری ہو گئی۔یہ تو ظاہر ہے کہ پہلے سے اس امت مرحومہ میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا کہ جو مہدویت کا مدعی ہوتا اور اُس کے وقت میں چھاپہ خانہ بھی ہوتا اور اس کے پاس ایک کتاب بھی ہوتی جس میں تین سو تیرہ نام لکھے ہوئے ہوتے اور ظاہر ہے کہ اگر یہ کام انسان کے اختیار میں ہوتا تو اس سے پہلے کئی جھوٹے اپنے تئیں اس کا مصداق بنا سکتے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ خدا کی پیشگوئیوں میں ایسی فوق العادت شرطیں ہوتی ہیں کہ کوئی جھوٹا ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔اور اس کو وہ سامان اور اسباب عطا