تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 14
14 وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَفِرِينَ لِيُحِقَّ الْحَقِّ وَيُنطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ ، ( سورۃ الانفال : 9۔8) اور کافروں کی جڑ کاٹ دے تا وہ اس طرح حق قائم کر دے اور باطل کو تباہ کر دے۔خواہ مجرم اسے ناپسند ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔اس وقت نصرت الہی مومنوں کے ساتھ کچھ اس طرح شاملِ حال ہوئی جو قرآن کریم کے مطابق قبولیت دعا اور فرشتوں کی معیت کو ظاہر کرتی ہے۔سورۃ الانفال میں ہے: إِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَكَةِ مُرْدِفِينَ (سورۃ الانفال آیت : 10) یعنی (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب کہ تم اپنے رب سے التجائیں کرتے تھے اس پر تمہارے رب نے تمہاری دعاؤں کو سنا ( اور کہا کہ ) میں تمہاری مدد ہزار فرشتوں سے کروں گا۔جن کا لشکر کے بعد لشکر بڑھ رہا ہوگا۔اصحاب بدر کی فدائیت : قرآن کریم اور کتب حدیث میں اصحاب احمد کے جذبہ ایمانی اور فدائیت کا ذکر یوں ہے۔آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے لشکر کفار کا ذکر کر کے مشورہ طلب فرمایا تو اس پر صحابہ نے جس فدائیت کا نمونہ دکھلایا وہ بے مثال ہے۔اس موقع پر آپ انصار کے جواب کے منتظر تھے کہ وہ بھی کچھ بولیں۔آپ کا خیال تھا کہ شاید انصاریہ سمجھتے ہوں کہ بیعت عقبہ کے تحت ہمارا فرض صرف اس قدر ہے کہ اگر مدینہ پر کوئی حملہ ہو تو اس کا دفاع کریں گے۔چنانچہ باوجود اس عہد و پیمان کے آپ یہی فرماتے رہے کہ مجھے مشورہ دوسیرت ابن ہشام میں ذکر ہے بر ترجمہ: حضرت سعد بن معاذ رئیس اوس نے آپ کا منشاء سمجھ لیا تھا۔اور انصار کی طرف سے عرض کی اے اللہ کے رسول شاید آپ ہماری رائے پوچھتے ہیں خدا کی قسم جب ہم آپ کو سچا سمجھ کر آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے تو پھر اب آپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔اگر آپ میدے اللہ ہمیں سمندر میں کود جانے کو کہیں گے تو ہم کود جائیں گے۔اور ہم میں سے ایک فرد بھی دشمن سے مقابلہ میں پیچھے نہیں رہے گا۔اور انشاء اللہ آپ سہمیں لڑائی میں صابر پائیں گے۔اور ہم سے وہ بات دیکھیں گے۔جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے گی۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد کی یہ تقریرین کر بہت خوش ہوئے۔محضرت کے صحابہ اپنے عملی نمونہ میں بھی پیش پیش تھے۔چنانچہ میدان بدر میں جب کفار مکہ کے سرداروں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ نے مبارزت چاہی تو بلا تامل انصار مقابلے کے لئے بڑھے۔لیکن کفار نے