تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 13 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 13

13 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار اصحاب بدر ابتداء اسلام میں ایک عظیم معرکہ حق و باطل ہوا جس میں بدر کے مقام پر ۳۱۳ - اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شاندار قربانیوں کا نمونہ دکھاتے ہوئے بے سروسامانی کی حالت میں کفار مکہ کے ایک ہزار آزمودہ کار جنگجوؤں کو شکست فاش دی۔قرآن کریم نے اس معرکہ حق و باطل کو يَومُ الفُرقان قرار دیا اور تاریخ عالم نے خدائے ذوالجلال کی عظمت کا ایک عظیم الشان نشان اور فتح مبین قرار دیا ہے۔انہی اصحاب بدر کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے۔جن کا ذکر حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں ایک اور پیشگوئی کا پورا ہونا کے عنوان میں کیا ہے اور اخلاص و وفا اور قربانی میں اپنے رفقاء کو ان کے مشابہ قرار دیا ہے۔مقام بدر: رمضان المبارک ہ ھ بمطابق ۶۲۴ء کو اصحاب بدر اور کفار مکہ کے درمیان بدر کے مقام پر یہ معرکہ ہوا مقام بدر مدینہ سے ۸۰ میل جنوب مغرب بطرف اُس شاہراہ پر واقع ہے جو زمانہ قدیم سے شام اور ملکہ کے درمیان تجارتی قافلوں کی گزرگاہ رہی ہے۔بحیرہ احمر سے اس مقام کا فاصلہ دس بارہ میل ہے۔( معجم البلدان زیر لفظ بدر ورسول رحمت صفحه ۲۷۶ مصنفہ مولانا غلام رسول مہر ) غز و بدر کی اہمیت: غزوہ بدر کا نام اللہ تعالیٰ نے یوم الفرقان (حق و باطل میں فیصلہ کر دینے والا ) رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 66۔وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعُ۔۔۔۔۔۔(سورة الانفال آیت : 42) اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر حق و باطل میں فیصلہ کر دینے والے دن میں نازل کیا تھا۔جس دن کہ دونوں لشکر جمع ہوئے تھے۔اس غزوہ میں شامل ہونے والے اصحاب بدر کہلاتے ہیں جن کی عظمت اور علو مرتبت کا ذکر کرنا مقصود ہے۔اللہ تعالیٰ غزوہ بدر میں اہل ایمان کی تائید و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ اَذِلَّةٌ۔۔۔(سوره آل عمران آیت : 124) ( ترجمہ ) اللہ تعالیٰ اس سے پہلے ) بدر میں جب کہ تم حقیر اور قلیل التعداد) تھے یقینا تمہیں مدد دے چکا ہے۔یہ نصرت الہی کفار کی سزا ہی کے لئے تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔