تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 279
279 ☆ ۲۴۵۔حضرت مفتی فضل الرحمن صاحب معہ اہلیہ۔بھیرہ ولادت : ۱۸۷۶ء۔بیعت : ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء۔وفات : ۱۹۲۴ء تعارف: حضرت مفتی فضل الرحمن رضی اللہ عنہ بھیرہ کے مفتی خاندان سے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام مفتی شیخ عبداللہ تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے شاگرد اور داماد تھے آپ کی اہلیہ صاحبہ کا نام امامہ تھا۔نیز حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہم سبق اور ہم زلف تھے۔ہجرت کر کے قادیان آگئے۔بیعت : آپ کی بیعت کے دسمبر ۱۸۹۱ء کی ہے اور رجسٹر بیعت میں ۱۸۴ نمبر پر آپ کا نام درج ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر آسمانی فیصلہ میں جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں، تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی اور کتاب البریہ میں پرامن جماعت کے ضمن میں کیا ہے۔حضرت اقدس کا ایک الہام سیھدی آپ کے بارہ میں ہے۔حضرت اقدس کی خدمت : آپ کو حضرت اقدس کی اکثر خدمت کا موقع ملتار ہا۔آپ کے پاس ایک گھوڑا ہوا کرتا تھا۔گورداسپور مقدمہ کے موقع پر گھوڑ ا ساتھ رکھا۔تا کہ حسب حالات اس سے کام لے سکیں۔بعض فرائض کو نہایت ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتے رہے۔حضرت اقدس کا آپ کے ساتھ مشفقانہ سلوک ہوا کرتا تھا۔حضور نے ایک مرتبہ آپ کو اپنی پگڑی بھی پہنے کا ارشاد فرمایا تھا۔وفات : آپ نے ۱۹۲۴ء میں وفات پائی اور وفات کے بعد قادیان میں ہی تدفین ہوئی۔اولاد آر آپ کے بیٹے مکرم بشیر احمد صاحب مفتی جودھامل بلڈ نگ لاہور اور رفیق احمد مفتی جرمنی میں ہیں۔ایک بیٹی مکرم مولوی عبدالوہاب صاحب کی اہلیہ تھیں۔ماخذ : (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد۲ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۵۷ (۴) سیرت حضرت مسیح موعود (۵) بھیرہ کی تاریخ احمدیت ، صفحہ ۶۱ ۲۴۶۔حضرت حافظ محمد سعید صاحب بھیرہ۔حال لندن بیعت : ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت : حضرت حافظ محمد سعید رضی اللہ عنہ بھیرہ سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی