تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 280
280 ہے۔تاریخ احمدیت بھیرہ میں حضرت حافظ محمد سعید صاحب بھیرہ حال لندن کا ذکر کیا گیا ہے۔نوٹ: آپ کے مزید حالات دستیاب نہیں سکے۔ماخذ: (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا ☆ ۲۴۷۔حضرت مستری قطب دین صاحب بھیرہ ولادت : ۱۸۶۶ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات : ۱۹۳۴ء تعارف و بیعت : حضرت مستری قطب الدین رضی اللہ عنہ صوفی منش بزرگ تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۹۲ء کی ہے حضرت اقدین کے فدائی تھے۔بھیرہ سے ہجرت کر کے قادیان چلے گئے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۲ء کی ہے۔قادیان مستقل سکونت : آپ افریقہ بسلسلہ ملازمت گئے لیکن واپس قادیان چلے آئے اور مسجد اقصیٰ کے قریب مکان تعمیر کر کے رہائش پذیر ہو گئے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر بھیرہ کی جماعت کو اپنے ہاں ٹھہراتے تھے۔اعجاز مسیحا کا ایک واقعہ: ایک واقعہ آپ ہی کی زبان مبارک سے ملاحظہ ہو۔ایک دفعہ ایک ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ تمہاری آنکھوں میں موتیا بڑے زور سے اتر رہا ہے۔دو ماہ کے اندر اندر تمہاری نظر بند ہو جائے گی۔میں یہ سن کر خاموش ہو رہا۔کچھ عرصہ کے بعد میں لا ہور گیا تو وہاں بغیر میرے دریافت کرنے کے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے بھی بعینہ وہی بات کہی جو پہلے ڈاکٹر نے کہی تھی تب مجھے فکر ہوا اور میں نے سوچا کہ خدا تعالیٰ نے حضور سے فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔میرے پاس جو عصا ہے وہ بھی حضور کے ہاتھ کی ایک چیز ہے میں کیوں اس سے برکت نہ ڈھونڈوں چنانچہ میں نے گھر آکر عصا ہاتھ میں لیا اور دعا کر کے عصا کو آنکھوں سے لگایا خدا کے فضل کی بات ہے کہ بائیس برس گزر گئے مگر میری نظر بدستور ہے اور بغیر عینک لگائے باریک کام کر سکتا ہوں۔“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آریہ دھرم میں صفحہ ۸۹ پر آپ کا نام بھی تحریرفرمایا ہے کہ ہدایت کی پابندی کریں گے۔وفات: آپ نے ۲۹ مئی ۱۹۳۴ء کو وفات پائی۔آپ کا وصیت نمبر ۸۵۴ ہے۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں قطعہ نمبر ۴ حصہ نمبر میں ہوئی۔ماخذ : (۱) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) اخبار الحام ۱۴ اگست ۱۹۳۵ء (۳) ” بھیرہ کی تاریخ احمدیت‘ صفحہ ۶۲