تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 278
278 ☆ ۲۴۴۔حضرت مولوی سید محمد رضوی صاحب۔حیدر آباد ولادت : ۱۸۶۲ء یا ۱۸۶۴ء۔بیعت : ابتدائی ایام میں۔وفات : ۳۱ راگست ۱۹۳۲ء تعارف: حضرت مولوی سید محمد رضوی رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام نواب امیر ابو طالب تھا۔آپ ۱۸۶۲ ء یا ۱۸۶۴ء میں بمقام ایلور علاقہ مدراس میں پیدا ہوئے۔آپ بڑے وجیہہ اور خوبصورت تھے۔حیدر آباد دکن میں ہائی کورٹ کے وکیل تھے۔آپ نے سلسلہ کی بہت ہی مالی معاونت کی۔حضور کی زندگی میں مسجد اقصیٰ کے لئے دریوں کا تحفہ بھی لائے۔بیعت : آپ کی بیعت ابتدائی ایام کی ہے۔قادیان میں آمد : ایک دفعہ آپ ایک جماعت لے کر قادیان آئے۔چونکہ حیدر آباد کے لوگوں کو عموما ترش سالن کھانے کی عادت ہوتی ہے اس لئے آپ کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود نے ارشاد فرمایا کہ ان کے لئے کھٹے سالن تیار ہوا کریں تا کہ ان کو تکلیف نہ ہو۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔جناب خواجہ کمال الدین صاحب مقدمہ میں وکیل: آپ کے ایک مقدمہ جائیداد کے سلسلہ میں جو ( نظام حیدر آباد دکن کے مقابل) پر یومی کونسل لندن میں زیر اپیل تھا۔جناب خواجہ کمال الدین صاحب لندن کی پریوی کورٹ میں آپ کی اپیل کے لئے گئے تھے۔حضرت رضوی صاحب نے تمام اخراجات اس سفر کے برداشت کئے تھے۔علاوہ ازیں بھی آپ کو مالی قربانیوں کی بہت تو فیق ملی۔وفات : آپ حیدر آباد سے ۱۹۰۹ء میں بمبئی منتقل ہو گئے تھے۔۳ راگست ۱۹۳۲ءکو بمبئی میں ہی وفات پائی۔اولاد : آپ کے بیٹے سید عبد المومن رضوی کراچی میں رہائش پذیر رہے جن کا ۱۹۷۹ء میں انتقال ہوا اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہیں۔اور ان کی اولا د کراچی میں سکونت پذیر ہے۔حضرت نواب صاحب کا ایک پڑپوتا سید عطاء الواحد رضوی ( آف کراچی ) مربی سلسلہ احمدیہ ہے اور بیرون ملک خدمات کی توفیق پا رہا ہے۔ماخذ: (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) حیات قدسی (۳) حیات احمد (۴) سیرت حضرت مسیح موعود جلد اوّل صفحه ۱۵۲ (۵) روزنامه الفضل ربوه ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء (۶) روزنامه الفضل جون ۲۰۰۵ء (۶) فہرست وفات یافتگان بہشتی مقبرہ۔