تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 272
272 ☆ ۲۳۹۔حضرت سید فضل شاہ صاحب۔لاہور ولادت ۱۸۶۰ء۔بیعت ۲ / جنوری ۱۸۹۱ء۔وفات یکم فروری ۱۹۲۴ء تعارف: حضرت سید فضل شاہ رضی اللہ عنہ ولد سید محمد شاہ صاحب بیعت کے وقت محلہ ستھاں لاہور میں رہتے تھے۔آپ اصل متوطن ریاست جموں کے تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۶۰ء کی ہے۔ابتداء میں کچھ عرصہ ریاست جموں و کشمیر میں ملازمت کی۔آپ سید ناصر شاہ صاحب بارہ مولا ( یکے از ۳۱۳) کے بڑے بھائی تھے۔بیعت : رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت نمبر ۲۱۴ پر ۲ جنوری ۱۸۹۱ء میں درج ہے۔جب کہ آپ کی اہلیہ صاحبہ کی بیعت ۱۸۹۸ء کی ہے۔حضرت اقدس سے تعلق خاص : ۱۹۰۰ء میں حضرت مسیح موعود کے چا زاد بھائی مرزا امام الدین صاحب نے حضور کے گھر کے آگے دیوار ایسے طور پر کھینچ دی کہ اس سے مسجد مبارک میں آنے جانے کا رستہ رک گیا۔ایک روز حضور بہت تشویش میں تھے کہ سلسلہ الہام شروع ہوا۔حضور نے اس الہام کی کیفیت حقیقۃ الوحی میں یوں درج فرمائی ہے۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت سید فضل شاہ صاحب لاہوری برادر سید ناصر شاہ صاحب او ورسئیر متعین بارہ مولا کشمیر میرے پاؤں دبارہا تھا اور دوپہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔میں نے سید صاحب کو کہا مقدمہ کی نسبت الہام کے بارہ میں ہے۔آپ جیسے جیسے یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں۔چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ لے لیا۔پس ایسا ہوا کہ ہر یک دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہو کر ایک ایک فقرہ وحی الہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر جاری ہوتا تھا۔پھر جب ایک فقرہ ختم ہو جاتا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دوسرا فقرہ وحی الہی کا زبان پر جاری ہو جاتا تھا۔یہاں تک کہ گل وحی الہی نازل ہو کر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی۔اس وحی کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں : عجیب بات ہے کہ اس الہام میں بشارت فضل کے لفظ سے شروع ہوتی ہے اور جس کے ہاتھ سے بوقتِ نزول یہ وحی قلمبند کرائی گئی اس کا نام بھی فضل ہے" سیرت المہدی کی ایک روایت جو حضرت مولوی عبداللہ سنوری سے مروی ہے ایک موقع زیادہ مہمان آ گئے اور کھانا کم تھا۔حضرت اقدس نے زردہ والے برتن کے بارہ میں فرمایا کہ ڈھانپ دیں اور خود حضرت اقدس نے