تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 271 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 271

271 ضمن میں بھی آپ کا نام درج ہے۔وفات : آپ کی وفات ۱۹۲۶ء میں ہوئی۔وفات کے وقت غیر مبائع تھے اور نظام خلافت سے وابستہ نہ تھے۔آپ کے متعلق حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے رویا میں دیکھا کہ مولوی عبد الکریم مرحوم آئے ہیں۔زین الدین صاحب کو لے جانا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اس رویا کی تعبیر کی جو نشی صاحب کی وفات پر دلالت کرتی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کا جنازہ پڑھا۔جنازہ کے موقع پر آپ نے فرمایا: میرے زین الدین صاحب) یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے مخلصوں میں سے تھے۔بمبئی میں انجینئر تھے۔اب ضعیف العمر تھے بہت اونچا سنتے تھے لیکن بعد میں سیٹھ اسمعیل آدم صاحب کے سبب غیر مبائعین کے ہم خیال ہو گئے۔چونکہ خود وہ اونچا سنتے تھے اور سیٹھ اسمعیل آدم کے ساتھ ان کے تعلقات تھے۔اس لئے سیٹھ صاحب ہی ان کے کان تھے۔سیٹھ صاحب بہت مخلص تھے اور اب بھی وہ مخلص ہیں لیکن جب وہ کسی حد تک پیغامی ہو گئے تو یہ بھی کچھ ست ہو گئے اور ادھر متوجہ ہو گئے۔نزدیک غیر مبائعین کا جنازہ پڑھنا جائز ہے۔زین الدین کے متعلق بھی میں نے دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آئے ہیں۔میں نے دریافت کیا آپ کہاں۔فرمانے لگے میں بھی آیا ہوں اور حضرت صاحب بھی آئے ہیں۔زین الدین کو لے جانا ہے۔میں نے اس سے سمجھ لیا کہ رویا ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ان کی عمر ۹۵ یا سو سال کے قریب تھی حضرت صاحب کے دیرینہ مخلص تھے۔۔۔چند لوگ جنہیں حضرت صاحب بہت پیار کرتے تھے۔ان میں سے ایک زین الدین صاحب بھی تھے۔“ (خطبه جمعه ۶ ار فروری ۱۹۲۶ء) ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) انجام آتھم روحانی خزائن جلد۱۱ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) خطبات محمود خطبه جمعه ۱۶ / فروری ۱۹۲۶ء مطبوعہ جلد نمبر، اصفحه ۶۱ ۶۲ (۵) اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۵۲۵ -