تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 5
5 حضرت شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اور ان کی تصنیف ” جواہر الاسرار" کا تعارف آنحضرت ﷺ کی حدیث درباره ظهور امام مهدی و تذکره ۳۱۳ / اصحاب حضرت مهدی موعود ( در صحیفه مختومه ) حضرت شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی کی ولادت ۷۸۴ ھ کو اسفرائن ( ایران ) میں ہوئی۔سلاطین بہمنیہ کے نویں سلطان احمد شاہ ولی اوّل (۸۲۵ ھ بمطابق ۱۴۲۲ء تا ۸۳۸ ھ بمطابق ۱۴۳۵ء) کے دور حکومت میں اسفرائن (ایران) کے حضرت علی حمزہ بن علی ملک بن حسن الطوسی نے ۸۳۰ھ (بمطابق ۱۴۲۶-۱۴۲۷ء) دکن میں قیام کیا۔تذکروں میں آپ کو شیخ آذری کے نام سے یاد کیا گیا ہے لیکن خاں بہا در شمس العلماء مولوی ذکاء اللہ نے آپ کو ملا آذری لکھا ہے۔(۲۱) شیخ آذری نے خود اپنا نام کتاب ” جواہر الاسرار" کے دیباچہ میں صفحہ ٦ الف پر یوں درج کیا ہے۔و علی بن حمزہ بن علی بن ملک بن حسن الطوسى المنسوب الى احمد بن محمد الزجی الہاشمی المروزی المولا الاسفرايني المحمدی عرف بآذری (۳) علامہ آذری ماروع میں پیدا ہوئے اور آپ کی پرورش اسفرائن (Asfara'in) میں ہوئی۔آپ کے والد ماجد بجک (Baihak) کے سربدار (Sarbadar) تھے جو آپ کے عزیز واقارب کے زیر نگیں تھا۔آپ کو نو جوانی ہی سے شاعری کی مشق تھی۔آپ نے اپنا تخلص آذر (Azar) کے مہینہ کی مناسبت سے اختیار کیا تھا جس میں آپ کی پیدائش ہوئی تھی۔شاہ رُخ (Shah Rukh) آپ سے متاثر تھا اور اُس نے آپ کو ملک الشعراء کا خطاب دینے کا وعدہ کیا تھا۔لیکن جلد ہی آپ نے دنیاوی دھندوں کو ترک کر دیا اور شیخ محی الدین طوسی کے زیر ہدایت اپنی زندگی کو مذہبی امور کے لئے وقف کر دیا۔بعد میں آپ مشہور و معروف صوفی نعمت اللہ ولی کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گئے۔فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد آپ ہندوستان میں وارد ہوئے۔کچھ عرصہ احمد شاہ بہمنی کے دربار سے وابستہ رہے۔اُس کے لئے آپ نے ایک تاریخی نظم بہن نامہ لکھی۔اپنے وطن مالوف میں واپسی کے بعد آپ نے اپنی زندگی کے آخری تیں سال گوشتہ گمنامی میں گزار دیئے۔آپ کا انتقال سن 866ھ میں 82 سال کی عمر میں اسفرائن ( کچھ مصنفین کے نزدیک اسفزار (Asfizar) میں ہوا۔جواہر الاسرار کا ذکر : درج ذیل کتب جن میں جواہر الاسرار کا ذکر موجود ہے۔Daulat Shah Habib us-siyar Majalis-ul-Muminin دولت شاه حبیب اسیر ۲۰۴ صفحه ۱۸۴۱۰ ایڈیشن ۳۹۲ صفحه ۶۵۶۱ ایڈیشن مجالس المومنین ۳۳۵ صفحه ۵۴۱ ایڈیشن