تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 242
242 مرزا صاحب ہیں۔اس پر حضرت شیخ صاحب کو ان کے بڑے بھائی حضرت شیخ کریم بخش نے کہا کہ کل تم اپنے ماسٹر صاحب سے حضرت مرزا صاحب کی کوئی کتاب لے کر آنا۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے براہین احمدیہ لا کر دی جسے پڑھ کر دونوں بھائیوں شیخ صاحب دین اور شیخ کریم بخش صاحب نے بیعت کر لی۔یہ واقعہ ۱۸۹۱ء۔۱۸۹۲ء کا ہے۔حضرت رحیم بخش صاحب ، حضرت مولوی احمد جان کے بیٹے تھے جن کی بیعت رجسٹر بیعت اولیٰ میں ۱۵/ نومبر ۱۸۹۱ء کی ہے اور نمبر ۱۶۶ پر شیخ رحیم بخش کے نام کے ساتھ شیخ احمد جان صاحب ایم اے مدرس سکول ، لا ہوراصل باشندہ جالندھر لکھا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مولوی احمد جان صاحب ۱۸۹۱ء میں احمدیت قبول کر چکے تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آپ کا نام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آئینہ کمالات اسلام جلسہ ۱۸۹۲ء کے احباب کی فہرست میں نمبر شمار ۳۱۷ پر بایں الفاظ درج فرمایا ہے:۔مولوی احمد جان صاحب جالندھر شہر مدرس ضلع گوجرانوالہ حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں پر امن جماعت کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔نوٹ : حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہم عصر علمائے کرام کی فہرست میں آپ کا نام بھی شامل کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کی تھی۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلدا (۴) لاہور تاریخ احمدیت صفحہ ۱۳۹ (۵) صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر جلسه سالانه ۱۹۶۴ء۔☆ ۲۰۲۔حضرت مولوی حافظ احمد دین چک سکندر گجرات بیعت : ۲۴ ستمبر ۱۸۹۲ء۔وفات: ۱۹۱۱ء تعارف و بیعت : حضرت مولوی حافظ احمد دین رضی اللہ عنہ ولد حافظ فضل الدین صاحب ساکن موضع چک سکندر متصل دھور یہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ کا پیشہ زمینداری تھا۔جب حضرت اقدس پر دعوی کے بعد فتوکی تکفیر لگایا گیا تو آپ نے کہا کہ میں ان کے خلاف فتویٰ نہیں دوں گا۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کی بیعت ۲۴ ستمبر۱۸۹۲ ء ہے۔آپ ایک لمبے عرصہ تک صدر جماعت احمد یہ چک سکندر رہے۔بڑے ہمدردی خلق کرنے والے انسان تھے۔مزید سوانحی حالات دستیاب نہیں ہو سکے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر تحفہ قیصریہ میں حضرت اقدس نے ڈائمنڈ جوبلی کے جلسہ میں شامل ہونے