تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 243 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 243

243 والوں میں ذکر کیا ہے۔وفات : آپ کی وفات کے بارہ میں اخبار بدر قادیان ۶ / اپریل ۱۹۱۱ء نے لکھا ” حافظ احمد الدین صاحب ساکن چک سکندر ضلع گجرات جو ایک صالح احمدی بزرگ تھے فوت ہو گئے۔“ اولاد: آپ کی اولاد میں (۱) محترم عبد المالک صاحب (۲) محترم محمد عبد اللہ صاحب (۳) محترم مولوی عبدالخالق صاحب ( مبلغ ایران و مغربی افریقہ ) سابق استاذ الجامعہ تھے۔آپ کے ایک پوتے مکرم ناصر احمد صاحب پہلے نائیجیریا میں خدمات بجالاتے رہے اور اب جرمنی میں مقیم ہیں۔اسی بزرگ کی نسل سے مکرم محمود ناصر ثاقب مربی سلسلہ احمدیہ ولد مکرم غلام احمد صاحب (سابق منیجر سندھ اسٹیٹس ) مغربی افریقہ میں خدمات بجالا رہے ہیں۔ماخذ: (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۶۲ (۳) اخبار بدر ۶ را پریل ۱۹۱۱ء صفحہا۔☆ ۲۰۳۔حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب کہیوال۔جہلم بیعت : ۱۸۹۶ء۔وفات : ۱۹۴۰ء تعارف و بیعت : حضرت مولوی عبد الرحمن کہیوال جہلم کے رہنے والے تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔حضرت مولوی عبد الرحمن کہیو ال حضرت خان ملک کہیوال کے ( یکے از ۳۱۳) مصنف قانونچہ کے فرزند اور اُن کے ہمعصر علماء میں سے تھے۔بھیرہ کی مخدوم فیملی کے اتالیق رہے۔ماسٹر سراج الدین صاحب ولادت ۱۹۰۸ء آف ہر یہ ضلع منڈی بہاؤ الدین موضع سالم میں آپ کے ذریعہ احمدی ہوئے ( جو مکرم مولوی عبدالرشید یحیی صاحب مبلغ سلسلہ کے دادا تھے ) حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ، سراج منیر اور کتاب البریہ میں ڈائمنڈ جو بلی کے جلسہ چندہ دہندگان اور پر امن جماعت میں ذکر کیا ہے۔وفات : حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب کی وفات ۱۹۴۰ء میں قادیان میں ہوئی۔اولاد : آپ کے بیٹے استاذی المکرم حافظ مبارک احمد صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ ایک فاضل استاد تھے اور حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔آپ کے ایک بیٹے و دود احمد صاحب بھی ہیں۔نوٹ : حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم نے آپ کا شمار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے والے ہم عصر علمائے کرام میں کیا ہے۔