تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 174 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 174

174 ۱۸۹۷ء میں آپ کے ایک بیٹے کی وفات پر حضور نے تحریر فرمایا: "یہ عاجز اب تک آنکھوں کے آشوب سے بیمار رہا اس لئے واقعہ وفات فرزند مرحوم اخویم سیٹھ صالح محمد صاحب پر عزائد سی نہ کر سکا اور نہ آپ کی طرف کوئی خط لکھ سکا ہمیں وفات فرزند دلبند سیٹھ صالح محمد صاحب کا سخت رنج ہے اللہ تعالیٰ ان کو صبر عطا فرما دے۔“ حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی رضی اللہ عنہ کے ایک چھوٹے بھائی کا نام محمد صالح تھا۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب فرماتے ہیں: ” میرا چھوٹا بھائی محمد صالح " جو ایک روز پہلے سے بنگلور آیا ہوا تھا وہاں آ گیا اور : ایک کتاب بھی ساتھ لایا اور وہ یوں کہنے لگا کہ یہ کتاب مجھے سیالکوٹ (پنجاب) سے غلام قادر در فصیح نے بھیجی ہے اور قابل پڑھنے اور سننے کے ہے یہ کہ کر انہوں نے اس کو پڑھنا شروع کر دیا اور وہ کتاب حضور اقدس کی پہلی کتاب دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کے بعد کی تھی جس کا مبارک نام فتح اسلام ہے۔“ اس کتاب کے کوئی دو ورق پڑھے گئے ہوں گے کہ سیٹھ عبد الرحمن کے دل پر اس کا عجیب اثر ہوا۔آپ کے بھائی زکریا مرحوم جو اس وقت بیمار تھے ایک جوش کے ساتھ یہ آواز بلند پکارا ٹھے کہ خدا کی قسم یہ بیشک وہی ہیں اور ان کا کلام اس کی پوری شہادت دے رہا ہے۔“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : کتاب البریہ میں حضرت اقدس نے آپ کا ذکر پر امن جماعت کے ضمن میں کیا ہے۔شہادت تصدیق صاحب العلم : حضرت پیر رشید الدین صاحب العلم ( پیر جھنڈے والے ) کی تصدیق جو انہوں نے اپنے ایک رؤیا اور کشف میں کی اس وقت آپ بھی حضرت اسمعیل آدم کے ساتھ تھے۔اس طرح حضرت پیر صاحب کے بیان کے آپ بھی شاہد تھے۔ماخذ: (۱) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد۱۷ (۴) حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۵) ماہنامہ انصار اللہ مارچ ۱۹۹۷ء۔☆ ۱۲۰۔حضرت سیٹھ ابراہیم صاحب صالح حمد حاجی اللہ رکھا تاجر مدراس بیعت : ۱۸۹۴ء تعارف و بیعت : حضرت سیٹھ ابراہیم صالح محمد رضیاللہ عنہ کا تعلق بھی مدر اس کے اسی خاندان سے تھا۔آپ سیٹھ صالح محمد صاحب اللہ رکھا تا جر مدراس ( یکے از ۳۱۳) کے فرزند تھے۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس ( یکے از ۳۱۳) کے نام ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود نے سیٹھ