تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 133
133 بیعت : آپ نے ۲۹ مئی ۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں ۲۳۱ نمبر پر آپ کا نام درج ہے۔اس وقت آپ سیالکوٹ میں مقیم تھے۔آپ کی اہلیہ محترمہ محمودہ بیگم ( بنت حضرت حکیم میر حسام الدین) کی بیعت ۷ فروری ۱۸۹۲ء کی ہے جو رجسٹر بیعت اولیٰ میں ۲۳۷ نمبر پر ہے۔كتاب تذكرة المهدی میں ذکر : مباحثہ دہلی کے دوران ایک روز مرزا حیرت دہلوی بناوٹی انسپکٹر بنے اور حضرت اقدس علیہ السلام سے کہا میں انسپکٹر ہوں سرکار سے حکم ہوا ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہوگا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کے کہنے پر بالکل خیال تک بھی نہ کیا اور کوئی جواب نہ دیا۔صرف سید امیر علی شاہ نے جو کہ اہلکار پولیس تھے ایک بات کی تو مرزا حیرت صاحب حیرت زدہ ہو گئے اور چل دیئے۔دہلی میں مخالفت کا ایک اور واقعہ ہے:۔ایک روز دہلی والے شرارت کی راہ سے حضرت اقدس علیہ السلام پر حملہ آور کئی سو آدمی آگئے چونکہ دروازہ زینہ کا تنگ تھا۔اس سے ایک ایک کر کے چڑھنے لگے اتنے میں سید امیر علی شاہ صاحب آگئے انہوں نے نہ آنے دیا وہ لوگ زور سے گھنے لگے مگر شاہ صاحب ایک قوی الجثہ آدمی تھے ان کا وہ کیا مقابلہ کر سکتے تھے۔ایک ہی دھکے میں سب ایک دوسرے پر گرتے گئے اور فرار ہو گئے اور گالیاں دینے اور ٹھٹھا بازی کرنے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔“ ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۵-۳۵۸ (۳) تذكرة المهدی (۴) ملفوظات جلد اول و چهارم (۵) سیرت احمد صفحه ۱۲۴ (۶) الحکم ۲۴ را کتوبر ۱۹۰۱ء۔۸۰۔جناب میاں محمد جان صاحب۔۔۔۔۔۔وزیر آباد بیعت: ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء۔وفات : ۲۷ را پریل ۱۹۳۸ء تعارف: حضرت میاں محمد جان رضی اللہ عنہ ولد محمد بخش صاحب وزیر آباد کے رہنے والے تھے اور اہلحدیث میں شامل تھے۔لیکن جب حضرت اقدس مسیح موعود کے دعوئی سے اطلاع ہوئی تو آپ نے تحقیق شروع کر دی اور حضرت اقدس کی صداقت کے قائل ہو گئے۔بیعت: آپ نے حضرت مولانا حکیم نور الدین (خلیل صحیح الاول) کی معیت میں حضرت اقدس مسیح موعود کی بیعت کی تھی اور ابتدائی رفقاء میں شامل تھے اور وزیر آباد کے ابتدائی بیعت کنندگان میں شامل تھے۔آپ کی بیعت ۱۲۷ دسمبر ۱۸۹۱ء کی ہے۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۱۸۲ نمبر پر یوں درج ہے۔حضرت شیخ محمد جان سکنہ وزیر آباد ملازم محل چوب بر دار راجہ امر سنگھ صاحب جموں۔“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آپ جماعت احمدیہ کے پہلے جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں بھی شامل ہوئے۔آسمانی فیصلہ، آئینہ کمالات اسلام میں شمولیت جلسہ سالانہ ۱۸۹۲۶۱۸۹۱ء اور سراج منیر چندہ مہمانخانہ تحفہ قیصریہ میں