تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 131 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 131

131 ☆ ۷۷۔حضرت میاں محمد اکبر صاحب۔۔۔۔۔بٹالہ بیعت: ۱۸۸۹ ء وفات ۲۳ / جولائی ۱۹۰۰ء تعارف و بیعت : حضرت میاں محمد اکبر رضی اللہ عنہ بٹالہ میں دوکانداری ٹھیکیداری کرتے تھے۔آپ کے والد منشی محمد ابراہیم صاحب تھے۔آپ کے تین اور بھائی بھی تھے۔آپ کی بیعت ۱۸۸۹ ء کی ہے۔براہین احمدیہ میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر پڑھ کر احمدی ہوئے۔حضرت اقدس سے تعلق اخلاص : آخری بیماری میں قادیان آگئے۔حضرت مسیح موعود آپ کی عیادت کو بھی تشریف لے گئے۔آپ بہت مخلص اور شیدائی احمدی تھے۔حضرت مولانا شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے آپ کو بٹالہ کا آدم قرار دیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: براہین احمدیہ میں آپ کا ذکر موجود ہے۔آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ کی فہرست ، آریہ دھرم میں دستخط کنندگان اور سراج منیر میں چندہ مہمان خانہ تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جو بلی کتاب البریہ میں پر امن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔دینی خدمات : قادیان جانے والے مہمان آپ کے ہاں ٹھہرتے تھے۔آپ ان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔اسی طرح قادیان کی ریلوے بلٹیاں اور دیگر تعمیراتی و سامان خورد و نوش آپ قادیان پہنچاتے تھے۔وفات : آپ کی وفات ۲۳ جولائی ۱۹۰۰ء کو ہوئی۔حضرت اقدس نے آپ کا جنازہ پڑھایا اور قادیان میں تدفین ہوئی۔ذکر خیر : حضرت اقدس اپنے پیاروں کی جدائی پر غمگین ہو جایا کرتے تھے۔حضرت میاں محمد اکبر کی وفات کے بارہ میں حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوائی بیان کرتے ہیں: حضور اپنے خادموں کی جدائی (وفات وغیرہ) پر صدمہ محسوس فرماتے تھے۔چنانچہ جس روز میاں محمداکبر صاحب تاجر چوب بٹالہ فوت ہوئے۔وہ جمعہ کا دن تھا۔مولوی عبداللہ صاحب کشمیری ( جو آج کل کشمیری ہائی کورٹ میں وکیل ہیں ) نے مسجد اقصیٰ میں بعد نماز جمعہ حضور کی خدمت میں ایک نظم خود تیار کردہ سنانے کے لئے عرض کی تو حضور نے فرمایا کہ آج محمد اکبر فوت ہو گیا ہے۔اس وقت میری طبیعت سننا نہیں چاہتی۔“ (سیرت المہدی حصہ چہارم روایت نمبر ۱۲۶۲) آپ کی اولاد: آپ کے تین بیٹے (۱) حضرت میاں محمد ابراہیم صاحب (۲) حضرت محمد اسمعیل صاحب (ان کے ایک بیٹے مکرم محمد جمال صاحب سابق انسپکٹر مال رہے ہیں ) (۳) حضرت محمد یعقوب صاحب۔آپ حضرت مولوی محمد حسین صاحب سبز پگڑی والے کے تایا تھے۔آپ کی اہلیہ حضرت امام بی بی نے ۲۹ جولائی ۱۹۵۷ء