تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 114
114 آدمی ہیں۔اس جوانی میں صلاحیت حاصل ہونا محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔“ نور القرآن حصہ دوم نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۵۵) قادیان گائیڈ میں (۱۹۲۰ء) میں نو مسلم بھائیوں کے تحت آپ کا نام درج ہے۔(صفحہ ۹۶) گویا اس وقت آپ زندہ تھے۔( تاریخ وفات کے بارہ میں علم نہیں ہو سکا ) ماخذ : (۱) تحفہ قیصریہ (۲) نور القرآن حصہ دوم نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۹ (۳) سوانح حضرت بھائی جی عبدالرحمن قادیانی (۴) سیرۃ المہدی جلد دوم (۵) اصحاب احمد جلد نہم ایڈیشن ۱۹۲۲ء (۶) قادیان گائیڈ از محترم محمد یا مین تاجر کتب قادیان۔☆ ۶۴ - جناب خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے معہ اہلبیت لاہور ولادت : ۱۸۷۰ء۔بیعت ۱۸۹۴ء۔وفات ۲۸ / دسمبر ۱۹۳۲ء تعارف : جناب خواجہ کمال الدین صاحب لاہور کے رہنے والے تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۷۰ء کی ہے۔آپ نے بی۔اے کے بعد وکالت کا امتحان ایل۔ایل۔بی۔پاس کیا تھا اور مشن کالج کے مشہور پادری پرنسپل ڈاکٹر یوانگ اور دیگر ہم عصروں کی صحبت سے اس خیال پر پختہ ہو چکے تھے کہ جب دنیا ہی مقصود خاطر ہے تو پھر عیسائی مذہب اختیار کیا جائے۔براہین احمدیہ سے متاثر ہونا : آپ کو حضرت مسیح موعود کی کتاب ” براہین احمدیہ ملی اور مطالعہ کے بعد اپنے خیالات سے تو بہ کر لی۔پادری یوانگ کے استفسار پر آپ نے اسے بتایا کہ میں اس کتاب کو پڑھ کر نئے سرے سے اسلام کو ترجیح دے رہا ہوں۔بیعت : ابھی خواجہ صاحب کے دل میں طرح طرح کے وساوس موجزن تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے ملتان تشریف لے جارہے تھے کہ امرتسر کے اسٹیشن پر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں خواجہ صاحب حاضر ہوئے۔حضرت صاحب نے خلاف معمول خواجہ صاحب کو زور سے سینہ سے لگایا اور بیعت بھی لی۔آپ کی بیعت ۱۸۹۴ء کی ہے۔خواجہ صاحب کا بیان ہے کہ وساوس تو سینے سے یوں ڈھل گئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی ، سراج منیر میں چندہ دہندگان اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت میں آپ کا نام درج ہے، حقیقۃ الوحی اور ملفوظات حضرت اقدس میں بھی آپ کا ذکر ہے۔کتاب منن الرحمن میں حضرت اقدس نے اشتراک السنہ میں مدد کرنے والے مخلصین کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے آپ کا نام بھی درج فرمایا ہے۔