تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 111 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 111

111 خزائن جلد ۱۳ (۴) سیرۃ المہدی جلد دوم (۵) الحکم ۷ جنوری ۱۹۰۹ء (۶) ملفوظات جلد چہارم (۷) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۱- (۸) بیان مکرم نوید الاسلام معلم اصلاح وارشاد مقامی والد مکرم مشتاق احمد صاحب بھٹہ۔۶۱۔حضرت میاں عبداللہ صاحب ٹھٹھہ شیر کا ولادت: ۱۸۴۵ء۔بیعت ۵/ دسمبر ۲۸۹۱ء۔وفات : ۱۹۳۰ء تعارف: حضرت میاں عبداللہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام محمد سردار تھا۔آپ ۱۸۶۵ء میں پیدا ہوئے۔حضرت مسیح موعود نے بدل کر میاں محمد عبد اللہ رکھا تھا۔والد کا نام محد مراد تھا۔آپ کے دو بڑے بھائی بھی تھے۔آپ زمیندار رائے کھرل تھے۔بیعت : آپ نے دو دفعہ پیدل حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔حج کے دوران آپ نے ایسی خواہیں دیکھیں جس سے حضرت اقدس کی صداقت ظاہر ہو گئی۔چنانچہ واپسی پر چند دن ٹھٹھہ شیر کا میں قیام کے بعد قادیان روانہ ہو گئے اور حضور کی بیعت کر لی۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں ۱۴۸ نمبر پر بیعت درج ہے۔میاں عبداللہ ولد مرادسا کن شیر کا ٹھٹھہ ضلع منٹگمری ضلع ساہیوال مقام چوچک قوم کھرل پیشہ زمینداری ، اصل پسته : مقام سید والا ضلع منٹگمری ( حال ضلع ننکانہ صاحب۔۔۔۔۔ناقل ) معرفت مولوی جمال الدین صاحب میاں عبداللہ صاحب ۵/ دسمبر ۱۸۹۱ء کو قادیان میں بیعت کے بعد واپس گاؤں پہنچے تو بھائیوں نے شدید مخالفت کی زمین اور مال و مویشی چھین لئے اور ان کے بیوی بچوں کو بھی لے گئے مگر میاں صاحب کے ثبات قدم میں کوئی فرق نہ آیا بلکہ اخلاص میں آگے بڑھتے گئے۔سلسلہ کی امداد کے لئے حسب توفیق قادیان رقم بھجواتے رہے جس کا حضور نے اپنی کتب میں ذکر فرمایا ہے۔چک نمبر ۲۷۸ گ ب شیر کا ضلع فیصل آباد میں شیر کا برادری نے فی آدمی ایک مربع زمین الاٹ کروائی تھی۔میاں صاحب بھی یہاں آکر آباد ہو گئے۔الائمنٹ کا سلسلہ کئی سال سے بند ہو چکا تھا مگر میاں صاحب نے لوگوں کے منع کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے درخواست دے دی۔ڈپٹی کمشنر نے ایک مربع زمین الاٹ کر دی جبکہ اس سے قبل اور بعد میں لوگوں کی درخواستیں رد ہو گئیں۔گاؤں کے نمبر دار تبریز ولد مبارک نے حضرت میاں صاحب کی شدید مخالفت کی حضور کے خلاف گندی زبان استعمال کی۔چنانچہ حضرت اقدس کی دعا کے ساتھ جلد اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ گیا۔آج اس کی نسل تک دنیا میں نہیں۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جو بلی