تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 66
66 بیعت : آپ نے ۱۶ فروری ۱۸۹۲ء میں حضرت اقدس کی بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں ۳۵۲ نمبر پر آپ کی بیعت درج ہے۔اس وقت آپ جموں میں ملازم تھے۔قادیان میں رہائش: ریاست جموں وکشمیر کے محلہ تعلیم میں بطور کلرک ملازم ہوئے اور جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ جموں سے قادیان آئے تو آپ بھی قادیان آ کر رہائش پذیر ہو گئے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ۱۸۹۲ء اور تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جو بلی کے احباب میں اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر ہے۔نور القرآن نمبر ۲ میں امام کامل کی خدمت میں رہنے والوں میں بھی آپ کا نام ہے۔حضرت اقدس نے انجام آتھم کے ضمیمہ میں فرمایا میاں منظور محمد صاحب میرے پاس ہیں اور ہر ایک خدمت میں حاضر ہیں۔گویا اپنی زندگی اس راہ میں وقف کر رہے ہیں۔(حاشیہ صفحہ ۳۰) خدمات دینیہ : آپ نے محض حضرت اقدس علیہ السلام کی تصانیف کے لئے کتابت سیکھی۔حضور کی بہت سی کتابوں کے پہلے ایڈیشن آپ ہی کے قلم سے لکھے ہوئے ہیں اور بہت دیدہ زیب اور نفیس ہونے کے علاوہ نہایت صاف اور صحیح ہیں۔حضرت اقدس کی منظوری سے آپ نے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کو قرآن شریف ناظرہ پڑھایا اور انہی کی تعلیم کی غرض سے یسر نا القرآن“ کا مشہور و معروف قاعدہ تیار کیا۔جس کے ذریعہ سے نہ صرف بر صغیر بلکہ بیرونی ممالک کے لاکھوں ان پڑھ لوگوں کو قرآن کریم پڑھنے کی توفیق ملی اور اس وقت تک اس کے بے شمار ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔اس قاعدہ کی تعریف اور خوشنودی کا اظہار حضور نے ۱۹۰۱ء میں اپنی اولاد کی آمین میں فرمایا:۔ره پڑھایا جس نے اس پر بھی کرم کر جزا دے دین اور دنیا میں بہتر تعلیم اک تو نے بتا دی فسبحان الذي اخزى الاعادى اس قاعدہ سے سینکڑوں روپے ماہانہ آمدنی ہوتی تھی لیکن آپ صرف ۳۰ یا ۴۰ روپے رکھ کر باقی رقم حضرت المصلح الموعود کی خدمت میں اشاعت قرآن کے لیے بھیج دیتے تھے۔آپ کی تصانیف میں (۱) پسر موعود (۲) مصلح موعود (۳) نشان فضل (۴) قاعده میسرنا القرآن (۵) قرآن مجید بطرز قاعدہ میسرنا القرآن (۶) حمائل شریف (۷) ایک پنجابی نظم ”مرزا صاحب مہدی شامل ہیں۔وفات : آپ کی وفات ۲۱ جون ۱۹۵۰ء کور بوہ میں ہوئی۔اور آپ کی وصیت نمبر 119 ہے اور آپکی تدفین بہشتی مقبرہ قطعہ نمبر ۱۰ا حصہ نمبر 19 میں ہوئی۔اولاد: آپ کی بیٹی حضرت صالحہ بیگم صاحبہ حضرت سید میر محمد الحق صاحب کے عقد میں آئیں۔( جن کے بیٹے سید میر داؤ داحمد صاحب مرحوم ( سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ )، سید میر مسعود احمد صاحب مرحوم ( مبلغ ڈنمارک) اور سید میر