تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 67 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 67

67 محمود احمد ناصر صاحب صدرنور فاؤنڈیشن ربوہ ہیں ان کے علاوہ چار بیٹیاں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائیں۔) آپ کی دوسری بیٹی حضرت حامدہ بیگم کی شادی سردار کرم داد صاحب سے ہوئی۔جن میں سے آپ کی دو بیٹیاں تھیں محتر مہ رشیدہ بیگم فرحت جہاں کی شادی مکرم چوہدری مظفر الدین صاحب بنگالی واقف زندگی ( پرائیویٹ سیکرٹری مصلح موعود) سے ہوئی۔حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر حضرت ام متین صاحبہ کے ہمراہ اکٹھا نکاح حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے پڑھایا دوسری بیٹی امینہ راحت صاحبہ کی شادی مکرم عبد الرحمن خان صاحب بنگالی (سابق مبلغ امریکہ ) سے ہوئی۔ان کی اولا د مکرم کمال الدین صاحب اور دیگر بھائی بیرون ملک ہیں۔یہ دونوں شادیاں حضرت سردار کرم داد خان صاحب کی خواہش پر ہوئیں کہ انہوں نے دونوں بیٹیوں کو وقف کیا ہے۔مکرمہ رشیدہ بیگم فرحت جہاں جن کی اولاد میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔جن میں مکرم مغفور احمد قمر صاحب مربی سلسلہ اور مکرم مسرور احمدطاہر فیصل آباد اور بڑی بیٹی مکرمہ ساجدہ نسیم صاحبہ اہلیہ مکرم ملک احسان اللہ مرحوم ( مبلغ سلسلہ ) حیات ہیں۔حضرت پیر صاحب کی کوئی نرینہ اولا د ی تھی۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) کتاب البر یہ روحانی خزائن جلد ۱۳(۴) نور القرآن نمبر ۲ (۵) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۹ (۶) مضمون ”حضرت صاحبزادہ پیر منظور محمد صاحب لدھیانوی مطبوعہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ اکتوبر ۱۹۹۹ء (۷) احمدیہ کلچر ☆ ۲۸۔حضرت حافظ حاجی مولوی احمد اللہ خان معہ اہلبیت حال قادیانی بیعت : ابتدائی زمانہ میں۔وفات : ۱۵ را کتوبر ۱۹۲۶ء تعارف: حضرت حافظ حاجی مولوی احمد اللہ خاں رضی اللہ عنہ کا تعلق امرتسر سے تھا۔یہاں سے نقل مکانی کر کے پشا ورصدر میں مقیم ہوئے۔بیعت : حضرت مولوی غلام حسن صاحب پشاوری کے زیر اثر تھے اور انہی کی وجہ سے احمدیت کی طرف توجہ ہوئی اور تحقیقات کے بعد احمدی ہو گئے۔بیعت کے بعد پشاور سے ہجرت کر کے قادیان آگئے۔( بیعت سے پہلے آپ اہل حدیث کے امام الصلوۃ تھے۔) ایک دفعہ عصر کے بعد مولوی حافظ احمد اللہ خاں صاحب امرتسر سے آئے اور انہوں نے حضرت اقدس پر مقدمہ اقدام قتل کی اطلاع کی کہ حضرت صاحب پر کسی پادری نے امرتسر میں دعویٰ کیا ہے جس کی خبر کسی طرح سے انہیں مل گئی ہے۔۔۔۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جو بلی اور کتاب البریہ میں حضرت اقدس کی