تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 47
47 ساتھ تھا۔وہیں آپ کو براہین احمدیہ کا پہلا اشتہارا اہتمام اشاعت کا ملا۔آپ نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ کتاب کی پیشگی قیمت قادیان روانہ کر دی۔براہین احمدیہ کے پہلے ایڈیشن کے ساتھ جو اعلان شائع ہوا ہے اس میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔آپ کی بیعت ابتدائی ایام کی ہے۔آپ کے پاس حضرت غلام حسین صاحب رہتاسی یکے از ۳۱۳ بھی بطور ملازم مقیم تھے۔آپ کو حضرت مسیح موعودؓ کا ایک خط ملا کہ انہیں قادیان بھیج دیں۔چنانچہ آپ نے انہیں قادیان بھیج دیا۔دینی خدمات : ۳۱ / مارچ ۱۹۰۱ ء کو حضرت مسیح موعود نے ریویو آف ریجنز کے لئے خریداری حصص کی تحریک فرمائی۔حضرت مولوی غلام علی رہتائی نے ۵ حصص خرید کئے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب آریہ دھرم اور کتاب البریہ میں اپنی پرامن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔حضرت مولوی صاحب کی بیماری کا تار موصول ہونے پر حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا: ”ہماری جماعت جواب ایک لاکھ تک پہنچی ہے سب آپس میں بھائی ہیں اس لئے اتنے بڑے کتبہ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی نہ کوئی دردناک آواز نہ آتی ہو۔جو گزر گئے وہ بھی بڑے مخلص تھے۔جیسے ڈاکٹر بوڑے خاں، سید فصیلت علی شاہ ، ایوب بیگ منشی جلال الدین۔خدا ان سب پر رحم کرے ( ملفوظات جلد دوم ص ص ۳۰۵-۳۰۶) ماخذ: (۱) براہین احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد ۱ (۲) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد ۱۰ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) الحکم ۱۴ جولائی ۱۹۳۴ء صفحہ ۹ کالم ۲۱ (۵) ملفوظات جلد دوم (۶) رجسٹر روایات نمبر۱۰ صفحه ۳۲۱ (۷) اخبار الحکم ۱۷ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۰ کالم ۳ (۸) اخبار الحکم ۱۰ارا کتوبر ۱۹۰۲ء (۹) ماہنامہ انصار اللہ ربوہ نومبر ۲۰۰۱ء(۱۰) واقعات ناگزیر۔۱۷۔حضرت میاں نبی بخش صاحب رفو گر۔امرتسر بیعت : ۱۸۹۳ء سے قبل۔وفات :۳؍ جولائی ۱۹۱۸ء : حضرت اقدس سے ابتدائی تعارف : امرتسر میں مباحثہ جنگ مقدس کے دوران شیخ محمود احمد صاحب امرتسر نے حضرت اقدس کی دعوت کی۔جب کھانا کھا چکے تو حضرت میاں نبی بخش رفوگر وسوداگر پشمینہ نے بڑے ادب سے عرض کیا کہ کل صبح میری دعوت منظور کی جاوے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ اگر شیخ نور احمد صاحب منظور کر لیں تو ہمیں کوئی عذر نہیں ،حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی فرماتے ہیں: