تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 41 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 41

41 میں حضرت اقدس نے اشتراک السنہ کے کام میں جان فشانی کرنے والے مردان خدا کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے آپ کا ذکر فرمایا ہے۔تصانیف: (۱) الحق سیالکوٹ اکتوبر ۱۸۹۱ء ونومبر نمبر ۱۹۸۹ء (۲) القول الفصح فی اثبت حقیقی مثیل اسے (۳) لیکچر گناه (۴) لیکچر موت (۵) بادی کامل (۶) ایام اصلح فارسی ترجمہ (۷) حضرت مسیح موعود جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے کیا اصلاح اور تجدید کی۔(۸) سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام (۹) ضمیمہ واقعات صحیحہ (۱۰) اعجاز اسیح اور حضرت مسیح موعود اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی (۱۱) خطبات کریمیہ (۱۲) دعوۃ الی الندوة - ندوۃ العلماء کی طرف ایک خط (۱۳) خلافت راشدہ حصہ اول (۱۴) خلافت راشدہ حصہ دوم المعروف فرقان۔حضرت اقدس سے تعلق محبت : حضرت مسیح موعود حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب کی اس محبت کی کیفیت کو یوں بیان فرماتے ہیں۔ان کو میرے ساتھ نہایت درجہ کی محبت تھی اور وہ اصحاب الصفہ میں سے ہو گئے تھے جن کی تعریف خدا تعالیٰ نے پہلے سے ہی وحی کی تھی“۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: اخبار البدر قادیان ۱۲ / جنوری ۱۹۰۶ء) مسجد مبارک کے پرانے حصہ کی اینٹیں اب بھی اُن کی ذمہ دار تقریروں سے گونج رہی ہیں۔(خطبہ نکاح بحوالہ سیرت حضرت مولانا عبد الکریم سیالکوٹی ص ۳۶) شادی: آپ کی شادی آپ کی پھوپھی زاد حضرت زینب بی بی سے ہوئی ( بیعت نمبر ۲۳۸ مورخہ ۷ فروری ۱۸۹۲ء) جو فخر الدین صاحب کی بیٹی اور منشی محمد اسمعیل صاحب کی ہمشیرہ تھیں۔حضرت زینب بی بی صاحبہ کے والد صاحب کے جد امجد عطر سنگھ صاحب چوہڑ کا نہ حال فاروق آباد ضلع شیخوپورہ سے کشمیر چلے گئے اور مسلمان ہو کر عطریاب“ کہلائے۔آپ کی دوسری شادی حضرت عائشہ بیگم سے ہوئی جو حضرت شادی خاں صاحب کی بیٹی تھیں۔حضرت منشی شادی خاں صاحب نے منارہ اسیح کی تعمیر میں غیر معمولی مالی قربانی دی اور خلافت ثانیہ میں اپنا گھر یلو اثاثہ بھی فروخت کر کے تعمیر مینارہ مسیح کے لئے پیش کر دیا جسے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے صدیقیت کا نمونہ قرار دیا۔اولاد : آپ کی کوئی اولا دن تھی۔وفات : آپ ذیا بیطیس کے باعث بیمار ہوئے جس کی علامت کار بنکل ظاہر ہوئی۔بیماری کے دوران حضرت اقدش کو الہام ہوا کہ دو شہتیر ٹوٹ گئے وو چنانچہ آپ اار اکتوبر ۱۹۰۵ء کو انتقال فرما گئے اور قادیان میں تدفین ہوئی۔بہشتی مقبرہ کا قیام آپ کی وفات کے بعد ہوا۔جہاں بعد میں آپ کی تدفین سے بہشتی مقبرہ کا عملا افتتاح ہوا۔حضرت اقدس نے آپ کی وفات پر ایک طویل فارسی نظم تحریر کی۔جس کے چند اشعار یہ ہیں :