تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 31
31 ہوں۔مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں۔یہ کہہ کر منشی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود کی یاد میں اس قدر بے چین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں اور ان کے چہرہ کا رنگ ایک دھلی ہوئی چادر کی طرح سفید پڑ گیا۔بعد میں مسٹر والٹر نے مذکورہ کتاب میں اس واقعہ کا ذکر کر کے لکھا کہ جس شخص نے اپنی صحبت میں اس قسم کے لوگ پیدا کئے ہیں ہم اس کو کم از کم دھو کے باز نہیں کہہ سکتے۔“ (اصحاب احمد جلد چہارم صفحه ۹۴-۹۵ ) ہجرت قادیان اور وفات: پیشن پا جانے کے بعد منشی صاحب نے قادیان میں رہائش اختیار کر لی اور ۲۵ / اکتو بر ۱۹۱۹ء کو بعارضہ فالج وفات پائی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے جنازہ کو کندھا دیا۔آپ کا وصیت نمبر ۸۵۲ تھا۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۳ حصہ ۲ میں ہوئی۔اولاد: آپ کی ایک بیٹی آپ کی وفات کے وقت بٹالہ میں تھیں چنانچہ انہیں بٹالہ میں وفات کا پیغام بھجوا دیا گیا۔بعد میں امرتسر میں رہیں۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد نمبر ۵ (۳) نشان آسمانی روحانی خزائن جلد نمبر ۳ (۴) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد نمبر ۱۰ (۵) ضمیمه انجام آتھم روحانی خزائن جلد نمبر ۱ (۶) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ ( ۷ ) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ (۸) ملفوظات جلد اول جدید ایڈیشن صفحه ۳۴۴ (۹) ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن (۱۰) سیرت المہدی (۱۱) ماہنامہ انصار اللہ جولائی ۱۹۷۸ء (۱۲) سیر روحانی (۱۳) اصحاب احمد جلد چہارم (۱۴) مضمون ” حضرت منشی محمد اروڑا خان کپورتھلوی ماہنامہ خالدر بوہ جنوری ۲۰۰۲ء (۱۵) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول۔