تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 30 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 30

30 طباعت کے لئے حضرت منشی ظفر احمد صاحب سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اس کا خرچ کپورتھلہ کی جماعت اٹھائے حضرت منشی صاحب نے حامی بھر لی اور کسی کو بتائے بغیر اپنی بیوی کا زیور بیچ کر رقم دے دی۔جب حضرت منشی اروڑا خاں صاحب کے سامنے حضرت اقدس نے اس قربانی کا ذکر فرمایا تو آپ حضرت منشی ظفر احمد صاحب سے سخت ناراض ہوئے کہ دوسروں کو قربانی کا موقع کیوں نہیں دیا۔یہ ناراضگی یا جذ بہ آپ کے اخلاص کے سبب سے تھا۔حضرت مصلح موعود اور حضرت خلیفہ امسیح الرابع ” نے اپنے خطبات میں اخلاص و فدائیت کے تعلق میں آپ کا ذکر فرمایا کہ ایک موقع پر آپ ایک پوٹلی میں سونے کے پونڈ لے کر آئے جو آپ نے جمع کر رکھے تھے جو حضرت اقدس کی خدمت میں نذرانہ کے لئے جمع کئے تھے مگر حضرت اقدس کی وفات ہو گئی۔آپ قادیان تشریف لائے اور حضرت اقدس کی یاد میں روتے ہوئے نذرانہ حضرت ام المومنین کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: مجھے ہمیشہ ایک واقعہ یا درہتا ہے ایک دفعہ انہوں نے مجھے دو یا تین پونڈ دیئے اور کہا کہ اماں جان ( ام المؤمنین) کو دے دینا۔اس کے ساتھ ہی رو پڑے۔یہ واقعہ حضرت صاحب کی وفات کے بعد کا ہے۔میں نے خیال کیا کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی یاد سے رورہے ہیں۔آخر جب دیر تک روتے رہے اور ان کی ہچکی بندھ گئی تو میں نے روکنے کے لئے کہا کہ آپ روتے کیوں ہیں کہنے لگے جب میں نے بیعت کی تو میں چھ سات روپے کا نو کر تھا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے چندہ کی تحریک کی۔اس وقت اپنی اس تنخواہ میں سے بچا کر جب قادیان آتا تو وہ تھوڑی سی رقم لے آتا تا وہ دین کی راہ میں خرچ ہو لیکن میری خواہش ہمیشہ یہ ہوتی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں سونے کی مہریں پیش کروں اس مقصد کے لئے میں اپنی تنخواہ میں سے بچاتا رہتا لیکن قبل اس کے کہ وہ مہریں بننے کی مقدار کا ہو بہت دیر ہو جاتی اور میں وہی روپے لے کر قادیان آ جاتا۔اس طرح مجھے اپنی خواہش کو پورا کرنے کا کبھی موقع میسر نہ آیا۔اب میں اس قابل ہوا کہ مُہریں پیش کروں۔اس وقت ان کی تنخواہ ۸۰۔۸۵ کے قریب تھی۔“ روزنامه الفضل ۷۱۸ اکتوبر ۱۹۳۲ء) تاثرات مسٹر والٹر : ۱۹۱۴ ء میں مسٹر والٹر سیکرٹری آل انڈیا YMCA مصنف Ahmadiyya Movement قادیان آئے اور حضرت اقدس کے کسی پرانے خادم سے ملنے کی خواہش کی۔مسٹر والٹر کو حضرت منشی صاحب کے ساتھ ملایا گیا۔مسٹر والٹر نے دریافت کیا کہ آپ پر مرزا صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا ؟ منشی صاحب نے جواب دیا کہ میں پڑھا لکھا آدمی نہیں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا مگر مجھ پر جس بات نے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحب کی ذات تھی۔جس سے زیادہ سچا اور زیادہ دیانت دار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص میں نے نہیں دیکھا۔انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔باقی میں تو ان کے مونہ کا بھوکا