تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 22
22 اولاد آپ کی اولاد میں آپ کے بیٹے چوہدری سعد الدین صاحب، ڈاکٹر کریم الدین صاحب اور چوہدری عبدالرحمن صاحب ہیں۔دو بیٹیاں مکرمہ غلام فاطمہ بیگم اہلیہ چوہدری محمد ابراہیم آف اسماعیلہ جو کہ مکرم چوہدری منیر احمد صاحب مبلغ سلسلہ حال ایم ٹی اے ارتھ سٹیشن یو ایس اے کی دادی اور مکرم رشید احمد طیب صاحب مربی سلسله ابن مکرم عزیز احمد صاحب سابق ٹیچر ٹی آئی ہائی سکول بشیر آباد سندھ کی نانی محترمہ ہیں۔( جو چوہدری محمد اسمعیل خالد صاحب مرحوم کی والدہ تھیں) اور مکرمہ ہاجرہ بیگم (اہلیہ چوہدری فضل الہی سابق امیر جماعت کھاریاں ) کی بیٹی مکرمہ طاہرہ جبیں صاحبہ اہلیہ مولانا محمد اشرف ناصر صاحب مرحوم مربی سلسلہ احمدیہ ہیں اور آپ کے ایک بیٹے مکرم محمد انور طاہر صاحب مربی سلسلہ احمدیہ ہیں۔ایک بیٹے مکرم افضل طاہر حلقہ رحمان پورہ لاہور اور مکرم فرید طاہر صاحب وقف جدید میں ہیں۔آپ کے ایک پوتے (چوہدری سعد الدین صاحب کے ایک بیٹے ) ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب پہلے فضل عمر ہسپتال اور پھر مغربی افریقہ میں خدمات بجالاتے رہے ہیں۔اور ان کے ایک بیٹے ڈاکٹر انوارالدین ہارٹ سپیشلسٹ طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ربوہ میں خدمت سر انجام دے چکے ہیں۔آپ کی ایک پوتی (چوہدری سعد الدین صاحب کی بیٹی ) مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب ناظر خدمت درویشاں (سابق ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ ) کی اہلیہ محترمہ ہیں۔ماخذ : (۱) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۶۲ جدید ایڈیشن (۲) روزنامه الفضل ربوه ۹ /اگست ۱۹۹۹ء (۳) ماہنامہ انصار اللہ مارچ ۱۹۷۸ء (۴) بیان مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب ربوه (۵) بیان رشید احمد طیب صاحب مربی سلسلہ بوہ۔۳۔حضرت میاں محمد دین پٹواری بلانی کھاریاں ضلع گجرات ولادت :۱۸۷۳ء۔بیعت : ۱۸۹۴ء۔وفات: یکم نومبر ۱۹۵۱ء تعارف: حضرت میاں محمد دین رضی اللہ عنہ موضع حقیقہ پنڈی کھاریاں ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام میاں نورالدین صاحب تھا۔ایک روایت کے مطابق آپ شاہ پور کے علاقہ میں جھمٹ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے جہاں سے آپ کے بزرگ نقل مکانی کر کے کھاریاں کے علاقے میں آگئے تھے۔آپ ابتداء میں پٹواری تھے۔۱۸۸۹ء میں تقرری موضع بلانی میں ہوئی۔بعد میں ترقی پا کر گر داور ، قانونگو اور واصل باقی نویس بنے۔آپ ۱۹۲۹ء میں ریٹائر ہوئے۔بیعت کا پس منظر : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت منشی جلال الدین بلا نوی نے ۱۸۹۳ء میں سیالکوٹ سے اپنے بیٹے مرزا محمدتقیم صاحب کو کتابیں بھجوائیں۔انہوں نے حضرت میاں محمد دین سے کہا کہ آپ دوسری کتابیں پڑھتے رہتے ہیں یہ بھی پڑھ کر دیکھیں۔انہوں نے براہین احمدیہ آپ کو دی۔حضرت میاں صاحب