تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 21 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 21

21 فضل الرحمن اور مرزا کمال الدین کو بھی رفیق بانی سلسلہ ہونے کی سعادت ملی۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائین جلد نمبر ۳ (۲) ضمیمہ انجام آنقم روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ (۳) مجموعه اشتہارات جلد سوم (۴) ملفوظات جلد چہارم (جدید ایڈیشن) (۵) رجسٹر بیعت از تاریخ احمدیت جلد ا صفحه ۳۴۸ (۶) اصحاب احمد جلد دہم ( ۷ ) سوانح حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی ( ۸ ) الحکم ۷ اپریل ۱۹۳۸، جلد ۴۳ نمبر ۱۳۔☆ ۲۔حضرت مولوی حافظ فضل دین صاحب۔کھاریاں ضلع گجرات ولادت : ۱۸۵۶ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات : ۱۴ را کتوبر ۱۹۳۲ء تعارف: حضرت مولوی حافظ فضل دین رضی اللہ عنہ کے والد کا نام حافظ عبداللہ صاحب تھا۔آپ کے آباؤ اجداد کئی پشتوں سے حافظ چلے آتے تھے۔دینی تعلیم کی تکمیل ہندوستان کے مختلف مدارس میں کی اور فارغ التحصیل ہونے پر کھاریاں کی مسجد کے امام بنے۔بیعت کا پس منظر : جب کھاریاں میں عیسائی مشن کھولا گیا تو علاقے کے تمام لوگ پریشان تھے۔آپ نے اپنے حلقہ درس کے شاگردوں کو فرمایا کہ ویرانوں میں جا کر دعائیں کرو۔چنانچہ آپ خود بھی خدا تعالیٰ سے عاجزانہ دعائیں کرتے رہے۔ایک دن عصر کی نماز کے لئے آپ وضو فرما رہے تھے کہ کسی نے آپ کو ایک اشتہار دیا۔جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی ماموریت کا اعلان تھا۔آپ کی بیعت : آپ نے ۱۸۹۲ء میں بیعت کی۔رجسٹر بیعت میں آپ کا نام۳۵۴ نمبر پر ہے اور تاریخ بیعت ۸ ستمبر ۱۸۹۲ء درج ہے۔آپ کی بیعت کے بعد کھاریاں کے لوگ احمدیت میں داخل ہونا شروع ہوئے اور گردونواح میں احمدیت نے بہت ترقی کی۔مقدمہ جہلم کے دوران ۱۹۰۳ء میں جب حضرت اقدس مسیح موعود جہلم تشریف لائے تو آپ کھاریاں اسٹیشن پر حضور کی زیارت کے لئے گئے۔جب گاڑی کھاریاں کے ریلوے اسٹیشن پر رکی تو زیارت کے لئے لوگ کشاں کشاں آئے اور کثرت سے لوگوں نے بیعت کے لئے اپنی پگڑیاں پھیلائیں اور ان کو پکڑ کر بیعت کی۔خدمت دین : جب مدرسہ احمدیہ کی بنیاد رکھی گئی تو ان دنوں آپ قادیان گئے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود نے آپ کو دینیات کا مدرس مقرر فرمایا۔آپ کے ذریعہ ضلع گجرات میں متعدد احمدی جماعتیں قائم ہوئیں۔آپ امیر جماعت احمد یہ بھی رہے۔وفات : آپ نے بعمر ۷۶ سال ۱/۱۴اکتوبر ۱۹۳۲ء کو وفات پائی۔آپ موصی تھے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔