تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 290
290 باہر رہنا تو زندگی کا عبث گزارنا ہے۔آپ نے قادیان سے محبت کی اس دلی کیفیت کا اظہار حضور کی خدمت میں بھی کیا جس کا ذکر اپنے مکتوب بنام حضرت اقدس میں کیا گیا ہے۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر پنجم ص ۲۵۳) قادیان کی طرف ہجرت : آپ قادیان میں سکونت پذیر ہونے کے خواہشمند تھے اس سلسلے میں آپ کو موقع کی تلاش تھی۔شاہ پور میں آپ کو ۵۰ روپے تنخواہ ملتی تھی لیکن قادیان کی محبت میں آپ یہ سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار تھے۔جب رسالہ ریویو آف ریلیجنز کا آغاز ہوا تو دفتر میگزین میں کلرک کی ضرورت تھی۔مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے اس آسامی کے لئے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ اس جگہ آجائیں ۱۵ روپے ماہوار ملا کر لیں گے آگے جیسے جیسے رسالہ میں ترقی ہوگی۔الاؤنس بھی بڑھنے کا امکان ہوگا لیکن آپ ان ۱۵ روپے میں بھی بہت خوش تھے اس کی وجہ یہ تھی آپ نہایت سادہ زندگی گزارنے کے عادی تھے۔بس ایک بات کا آپ کو انتظار تھا کہ حضرت اقدس اس سلسلے میں خود وو اجازت عنایت فرماویں۔چنانچہ آپ نے حضور کی خدمت میں لکھا۔حضور نے فرمایا :۔آپ کے صدق و ثبات پر نظر کر کے میری رائے یہی ہے کہ آپ تو کل علی اللہ اس نوکری کو لعنت بھیجیں اور اس محبت کو غنیمت سمجھیں اور بالفعل ۱۵ روپیہ پر قناعت کریں۔( مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم نمبر پنجم ) اس پاک وجود کے دہن مبارک سے اجازت ملنے پر خوشی کی انتہانہ تھی۔۱۹۰۴ء کی ابتداء ہی میں قادیان مہاجر ہوکر آگئے۔دفتر میگزین میں ہیڈ کلرک متعین ہوئے اور اس خدمت میں دن رات صرف کر دیئے۔مالی قربانیاں: حضرت چودھری اللہ داد صاحب کا شاہ پور میں ۵۰ روپے کی ملازمت ترک کر کے قادیان میں ۱۵ روپے الاؤنس کی خدمت پر رضامند ہو کر آجانا مالی قربانی کی عظیم الشان مثال ہے۔اس کے علاوہ آپ نے جماعت کی ہر مالی تحریک میں حصہ ڈالنے کی سعی کی۔رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے خریدار، مدرسہ تعلیم الاسلام اور امداد داخلہ امتحان طلباء کالج کی مدات میں آپ شامل ہوتے۔حضرت اقدس نے جب قادیان میں مدرسہ کے قیام کی تجویز پیش کی اور دوستوں کو مالی تحریک فرمائی تو آپ بھی لبیک کہنے والوں میں سے تھے۔اخبار البدر قادیان ۱۲۹ کتوبر ۱۹۰۳ء) اسی طرح حضرت چودھری صاحب نے کئی احباب کے نام اپنی طرف سے اخبار بدر جاری کروایا۔(اخبار البدر قادیان ۹ فروری ۱۹۰۶ ء ص ) مئی ۱۹۰۶ ء میں آپ تپ محرقہ سے علیل ہو گئے اور سترہ دن تک بخار میں مبتلا رہ کر ۲۷ مئی ۱۹۰۶ء کو اپنی جان اپنے مالک حقیقی کو سونپ دی۔حضرت بانی سلسلہ نے فرمایا کہ چودھری اللہ داد صاحب بڑے مخلص تھے۔ایسا آدمی پیدا ہونا مشکل ہوتا ہے اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ان کو بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے چنانچہ حسب الحکم ایسا ہی کیا گیا۔