تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 261
261 حضرت اقدس سے تعلق : حضرت مسیح موعود کے ایسے عاشق تھے کہ حضرت اقدس کا کوئی جلسہ ایسا نہیں تھا جس میں شریک نہ ہوئے ہوں۔مباحثات اور مقدمات کے چشم دید واقعات سنایا کرتے تھے۔حضرت اقدس کی کتابوں پر بڑا عبور حاصل تھا۔عبارتوں کی عبارتیں از بر تھیں۔ایک کتاب ” بشارات احمد“ کے مصنف بھی تھے۔بیعت : آپ کی بیعت یکم فروری ۱۸۹۲ء کی ہے رجسٹر بیعت کے مطابق آپ کی بیعت ۳۱۴ نمبر پر ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر آئینہ کمالات اسلام میں شمولیت جلسہ سالانہ تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی کے جلسہ اور سراج منیر چندہ دہندگان کے سلسلہ میں فرمایا ہے۔وفات: آپ کی وفات ۱۵/ نومبر ۱۹۳۳ء کو ہوئی۔حضرت خلیفتہ اُسیح الاوّل کی وفات کے بعد نظام خلافت سے الگ ہو گئے اور غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۸ (۴) یا درفتگان حصہ دوم صفحه ۶۳ تا ۶۷ ☆ ۲۲۶۔حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب ڈپٹی انسپکٹر ڈنگہ ولادت : ۱۸۵۶ء۔بیعت : ۹ / جولائی ۱۸۹۱ء۔وفات : ۱۵ ستمبر ۱۸۹۸ء تعارف: حضرت سید فصیلت علی شاہ رضی اللہ عنہ خاندان سادات کے چشم و چراغ تھے۔آپ کی اصل سکونت مالو مہے تحصیل پسر ورضلع سیالکوٹ میں تھی۔آپ خوارزمی بخاری سید تھے۔آپ کے والد کا نام سید ہدایت علی شاہ صاحب تھا۔آپ کی ولادت ۱۸۵۶ء کی ہے۔بیعت کے وقت ڈنگہ ضلع گجرات میں ڈپٹی انسپکٹر پولیس تھے۔آپ تین بھائی سید محمد علی شاہ صاحب ، سید احمد علی شاہ صاحب اور سید امیر علی شاہ صاحب تھے۔خاندانی تعارف : آپ کا خاندان بطور صوفی خاندان مشہور تھا۔آپکو بار ہابزرگان صوفیاء ومشائخ کی زیارت نصیب ہوئی اور بارہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے فیض یاب ہوئے۔آپ نے اپنے کشوف و کرامات کا اپنی بیاض میں ذکر کیا ہے۔جن میں سے بعض کا ذکر حضرت میر حامد شاہ صاحب نے کتاب ”واقعات ناگزیز میں کیا ہے۔حضرت اقدس کے بارہ میں تحقیق اور بیعت: حضرت شاہ صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دریافت حال کے لئے اپنے محکمہ سے تین ماہ کی رخصت لی۔ان دنوں حضرت اقدس حویلی سندھی خاں کو توالی امرتسر میں فروکش تھے۔حضرت اقدس کے جولائی ۱۸۹۱ء کو دن کے دس بجے دیوان خانہ میں رونق افروز ہوئے۔حضرت سید محمد علی شاہ اور حضرت سید احمد علی شاہ بھی آپ کے ساتھ امرتسر گئے تھے۔حضرت اقدس نے واعظانہ تقریر شروع کی مگر حضرت شاہ صاحب پر نیند نے غلبہ کیا۔آپ نے اٹھ کر منہ پر پانی بھی ڈالا لیکن پھر نیند کا غلبہ