تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 251 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 251

251 مبارک ہوگا۔اس پر حضور نے فرمایا۔آپ ایک اینٹ لے آئیں میں اس پر دعا کروں گا۔پھر جہاں میں کہوں وہاں جا کر رکھ دیں۔چنانچہ حکیم فضل الہی صاحب اینٹ لے آئے اور حضور نے لمبی دعا کی۔دعا کے بعد حضرت حکیم صاحب سے ارشاد فرمایا کہ آپ اس کو مجوزہ منارہ مسیح کے مغربی حصہ میں رکھ دیں۔حضرت حکیم صاحب اور دوسرے احباب نے یہ مبارک اینٹ لے کر مسجد اقصیٰ میں بنیاد کے مغربی حصہ میں نصب کر دی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں چندہ دہندگان اور پُر امن جماعت میں ذکر کیا ہے۔وفات : آپ کی وفات ۱۸اپریل ۱۹۰۶ء کو ہوئی۔بہشتی مقبرہ قادیان میں لاہور کے ایک صاحب فضل الہی کا کتبہ نصب ہے اگر یہی حکیم فضل الہی مراد ہیں تو تاریخ وفات ۱۸ اپریل ۱۹۰۶ ء ہے۔ماخذ : (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) لاہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۴۹۔۱۵۰ ☆ ۲۱۱۔حضرت شیخ عبداللہ دیوانچند صاحب کمپونڈ ر لا ہور بیعت ۱۸۹۴ء۔وفات ۴ ستمبر ۱۹۵۳ء تعارف و بیعت : حضرت شیخ عبداللہ دیوانچند رضی اللہ عنہ ابتداء میں انجمن حمایت اسلام لاہور میں بطور کمپونڈر ملازم تھے مگر پھر ہجرت کر کے قادیان چلے گئے اور ایک لمبا زمانہ نور ہسپتال میں کام کیا۔مدرسہ احمدیہ اور غالباً تعلیم الاسلام مدرسہ کے ہوٹلوں میں سالہا سال تک طبی معائنہ کے لئے جاتے رہے۔کسی بے ضابطگی کی وجہ سے شیخ صاحب قادیان سے لائل پور تشریف لے گئے اور اپنا تعلق انجمن اشاعت اسلام لاہور کے ساتھ قائم کر لیا۔ایک عرصہ بعد دو مرتبہ قادیان جا کر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی سے ملاقات بھی کی۔حضور بہت محبت سے پیش آتے۔شیخ عبد القادر صاحب (سابق سوداگریل) کا بیان ہے کہ حضرت شیخ صاحب کی ان سے ملاقات تھی اور آپ حضرت خلیفتہ امیج کو خلیفہ برحق بتایا کرتے تھے اسی طرح آپ کی اولاد کے خیالات تھے۔رساله نور القرآن نمبر ۲ کے حاشیہ پر پیر محمد سراج الحق صاحب جمالی نعمانی نے چند اصحاب کے نام درج کئے ہیں جو حضرت امام کی خدمت میں حاضر تھے ان میں شیخ عبداللہ صاحب بھی تھے ان کے ذکر میں لکھتے ہیں: در شیخ عبداللہ صاحب جوان صالح ہیں۔رشد کے آثار اور اتقاء کے نشان ان کے بشرہ سے ظاہر ہوتے ہیں۔جب انہوں نے اسلام کی طرف میلان کیا تو کئی ابتلاء پیش آئے۔از انجملہ ایک یہ ہے کہ لیکھر ام آریہ سے کئی بار مباحثہ ہوا آخر کار لیکھرام کوانہوں نے شکست فاش دی چونکہ آریہ تھے اس تعلیم خراب سے دستبردار ہوکر اسلام زورو شور سے قبول کیا اور امام وقت سے بیعت کی مجھ سے کہتے تھے کہ ازالہ اوہام کے دیکھنے سے مجھے اسلام کا شوق پیدا ہوا۔جب پیشگوئی جو آتھم کے رجوع الی الحق یا موت کی تھی۔اس کا رجوع الی الحق ہونا اور موت سے بچنا پوری ہو