تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 248
248 ☆ ۲۰۸۔حضرت منشی شاہ دین صاحب۔دینا۔جہلم ولادت : ۱۸۷۰ء۔بیعت : ابتدائی زمانہ۔وفات: ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء تعارف : حضرت منشی شاہ دین رضی اللہ عنہ کی بیعت دینہ ضلع جہلم سے ہے۔آپ کا اصل گاؤں سا ہو والہ تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ تھا۔دوران ملازمت مختلف جگہوں پر اسٹیشن ماسٹر رہے۔بیعت : ابتدا میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے تعلق رکھتے تھے۔پھر خدا تعالیٰ نے آپ کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: تحفہ قیصریہ، سراج منیر اور کتاب البریہ میں حضرت اقدس نے آپ کا ذکر ڈائمنڈ جوبلی جلسہ میں شرکت، چندہ دہندگان اور پُر امن جماعت میں ذکر کیا ہے۔قادیان ہجرت کرنا: حضرت اقدس کی زندگی کے آخری ایام میں بیمار ہو کر قادیان آگئے۔حضرت اقدس جب حضرت ام المومنین کی علالت کے باعث مشیت ایزدی کے ماتحت لاہور آگئے تو حضرت اقدس نے وفات سے تیرہ روز پیشتر حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین کو نشی شاہ دین کی خبر گیری کے لئے تا کیدا خطوط لکھے۔وفات حضرت منشی صاحب کی وفات ۲۵ رمئی ۱۹۰۸ء میں ہوئی۔ملک محمودخان صاحب مردان کے حالات میں اصحاب احمد جلد دہم میں لکھا ہے کہ ” جب نوشہرہ سے بطرف در گئی و مالا کنڈ ریلوے لائن بنائی گئی تو مردان کے سب سے پہلے اسٹیشن ماسٹر حضرت بابوشاه دین صاحب مقرر ہوئے۔آپ احمدیت کے قابل قدر خادم تھے بگٹ گنج مردان میں جماعت قائم کی۔بڑے مہمان نواز اور جاذب شخصیت کے مالک تھے۔آپ کے حسن اخلاق سے نوشہرہ سے درگئی تک کئی ریلوے ملازم احمدی ہوئے۔ماخذ : (۱) انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱۱ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) سیرت حضرت مسیح موعود جلد سوم صفحه ۴۲۵ تا ۴۲۷ (۶) اصحاب احمد جلد ا صفحہ ۷ ۱۹ ( ۷ ) مضمون مطبوع روزنامه الفضل ربوه ۱۲ فروری ۱۹۶۶ء۔