تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 244
244 ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا ۱ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسہ سالانه ۱۹۶۴ء (۶) بھیرہ کی تاریخ احمدیت (۷) چکوال تاریخ احمدیت۔۲۰۴۔حضرت میاں مہر دین صاحب۔لالہ موسیٰ بیعت : اگست ۱۸۹۴ء۔وفات : ۲۹ مئی ۱۹۵۴ء تعارف: حضرت میاں مہر دین رضی اللہ عنہ موضع قہر والی ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے۔آپ لالہ موسیٰ میں ریلوے گارڈ ریسٹ روم میں خانساماں تھے۔حضرت مولوی برہان الدین جہلمی سے قرآن شریف پڑھا کرتے تھے۔مولوی صاحب اس وقت احمدی تھے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں آپ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم جا کر حضرت صاحب کو دیکھ لو اور ان سے ملاقات کرو۔قادیان کی زیارت آپ چار یوم کی رخصت لے کر قادیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔مغرب کا وقت تھا اور حضور مسجد مبارک کی چھت پر تشریف رکھتے تھے۔اس وقت حکیم مولوی فضل دین بھیروی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا حضور مہر دین کی بیعت منظور فرمائیں حضور نے فرمایا ابھی نہیں۔مولوی برہان الدین جہلمی ( جو پہلے سے قادیان آئے ہوئے تھے۔) نے کہا حضور جیسے فرماتے ہیں وہی درست ہے۔بیعت چار دن بعد آپ واپس آگئے پھر تین چار ماہ بعد دوبارہ قادیان گئے اور حضرت اقدس سے ملے۔حضور سیڑھیوں کے اوپر کھڑے تھے۔میاں صاحب کے سلام کرنے کے بعد میاں صاحب سے حالات پوچھنے لگے۔آپ نے بیعت قبول کرنے کے لئے عرض کیا تو آپ نے بیعت منظور فرمالی۔آپ کی بیعت اگست ۱۸۹۴ء کی ہے۔ایک دفعہ آپ اپنے گاؤں کے لوگوں کو ساتھ لے گئے تو حضرت اقدس نے فرمایا ان کی پہلے دعوت جسمانی کی جائے پھر دعوت روحانی کی جائے اور اس کام کے لئے حضرت مولوی محمد احسن صاحب لاہور اور حضرت مولانا حافظ حکیم مولوی نورالدین کوفرمایا لیکن حضرت میاں مہر دین صاحب کی تجویز پر کہ اس کام کے لئے حضرت مولوی برہان الدین کو لگایا جائے تو حضرت اقدس مسیح موعود نے آپ کی تجویز کو منظور فرمالیا۔مولوی صاحب موصوف نے پنجابی میں تقریر کی چنانچہ پچیس آدمیوں نے بیعت کر لی۔رجسٹر روایات صحابہ نمبرا میں ہے کہ لالہ موسیٰ میں احمدیت کا پودا آپ کے ہاتھوں لگا۔آپ کمال محبت سے مہمانوں کی خدمت بجالاتے تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا نام تحفہ قیصریہ جلسہ ڈائمنڈ جوبلی کے شرکاء میں درج فرمایا ہے۔