تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 234 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 234

234 والد صاحب کی تلاش کا واقعہ: اس وقت آپ کی عمر گیارہ بارہ سال تھی جب آپ کے والد صاحب حضرت مولوی برہان الدین صاحب چھ ماہ تک گھر نہ آئے (حضرت مولوی برہان الدین صاحب گاؤں گاؤں پھرا کرتے تھے اور دعوت الی اللہ کرتے تھے ) تو آپ کی والدہ آپ کو لے کر قادیان پہنچی اور ساتھ گڑ کی میٹھی روٹیاں پکا کر لے گئیں۔والدہ صاحبہ اور آپ نماز عصر کے وقت مسجد مبارک پہنچے۔والدہ صاحبہ بُرقع اوڑھے باہر کھڑی رہیں اور مولوی صاحب اندر گئے تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ چند رفقاء کے ساتھ تشریف فرما تھے۔حضرت مولوی عبد المغنی صاحب نے کہا میری والدہ گھر سے بہت کم نکلا کرتی ہیں اور اب ہم والد صاحب کو ڈھونڈتے آئے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا آپ کی بغل میں کیا ہے؟ والدہ صاحبہ نے کہا سفر کے لئے میٹھی روٹیاں ہیں۔والدہ صاحبہ کی دعوت پر حضرت اقدس نے مسکراتے ہوئے ٹکڑا توڑ کر منہ میں ڈالا اور ساتھ والوں کو بھی دیا۔پھر رومال باندھ کر واپس دیا اور فرمایا والدہ کو گھر ( حضرت ام المومنین کے پاس ) اندر لے جاؤ یہاں پر پردہ کا انتظام ہے۔والد بھی مل جائیں گے۔دینی خدمت: آپ سرائے عالمگیر میں صوبیدار کوارٹر ماسٹر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ہر جمعہ با قاعدگی سے جہلم سائیکل پر نماز پڑھانے آتے تھے۔جہلم کے امیر جماعت بھی رہے۔آپ کے اساتذہ میں دو نام قابل ذکر ہیں جو حضرت خلیفہ امسیح الاول اور حضرت مولوی غلام رسول را جیکی جیسے وجود تھے۔ایک ایمان افروز واقعہ : حضرت میاں عبداللہ سنوری نے ایک روایت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد سے بیان کی کہ ”میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند مہمانوں کی دعوت کی اور ان کے واسطے گھر میں کھانا تیار کر وایا مگر عین جس وقت کھانے کا وقت آیا اتنے ہی اور مہمان آ گئے اور مسجد مبارک مہمانوں سے بھر گئی۔حضرت صاحب نے اندر کہلا بھیجا کہ اور مہمان آ گئے ہیں کھانا زیادہ بھجواؤ۔اس پر بیوی صاحبہ نے حضرت صاحب کو اندر بلوا بھیجا اور کہا کہ کھانا تو تھوڑا ہے۔صرف ان چند مہمانوں کے مطابق پکایا گیا تھا۔جن کے واسطے آپ نے کہا تھا مگر شاید باقی کھانے کا تو کچھ کھینچ تان کر انتظام ہو سکے گا لیکن زردہ تو بہت ہی تھوڑا ہے۔اس کا کیا کیا جاوے۔میرا خیال ہے کہ زردہ بھجواتے ہی نہیں صرف باقی کھانا نکال دیتی ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا نہیں یہ مناسب نہیں۔تم زردہ کا برتن میرے پاس لاؤ۔چنانچہ حضرت صاحب نے اس برتن پر رومال ڈھانک دیا اور پھر رومال کے نیچے اپنا ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں زردہ میں داخل کر دیں اور پھر کہا اب تم سب کے واسطے کھانا نکالوخدا برکت دے گا۔چنانچہ حضرت میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ زردہ سب کے واسطے آیا اور سب نے کھایا اور پھر کچھ بیچ بھی گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب میاں عبداللہ صاحب نے یہ روایت بیان کی تو حضرت مولوی عبدالمغنی صاحب بھی پاس تھے انہوں نے کہا کہ حضرت سید فضل شاہ صاحب نے بھی یہ روایت بیان کی تھی۔حضرت میاں عبداللہ صاحب نے کہا اچھا تب تو اس روایت کی تصدیق بھی ہوگئی۔شاہ صاحب بھی اس وقت موجود ہوں گے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسرے دن حضرت میاں عبداللہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے