تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 233
233 جب مقامی جماعتوں کی تنظیم قائم کی گئی تو حضرت مخدوم صاحب کو بھیرہ جماعت کا پہلا امیر مقرر کیا گیا اور تازیست آپ کو یہ مقام حاصل رہا۔بیعت : آپ حضرت مولانا حکیم نور الدین رضی اللہ عنہ کے شاگر د خاص تھے۔جب حضرت حکیم صاحب نے بیعت کی تو استاد کی پیروی میں آپ کو بھی بلا حیل و حجت احمدیت قبول کر کے ۳۱۳ صحابہ میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔آپ قادیان میں حضرت مولانا حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ (خلیفہ امسیح الاول ) کے درس القرآن میں با قاعدگی سے شامل ہوتے۔آپ کے بیٹے حضرت مخدوم محمد ایوب صاحب بھی بھیرہ کے امیر رہے ہیں۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں آپ کا نام پر امن جماعت میں کیا ہے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے حضرت اقدس کے معاصر علماء میں آپ کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کی۔اولاد: آپ کے بیٹے حضرت مخدوم محمد ایوب صاحب تھے۔ماخذ : (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) بھیرہ کی تاریخ احمدیت صفحه ۵۹ (۳) روزنامه الفضل ۱۸ر جون ۱۹۳۷ء (۴) روزنامه الفضل ۷ ارجون ۱۹۶۷ء (۵) روزنامہ الفضل مورخہ ۷ اراپریل ۱۹۹۰ء (۶) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسه سالانه ۱۹۶۴ء ☆ ۱۹۰۔حضرت عبد المغنی صاحب فرزند رشید مولوی بر بان الد ین صاحب جہلمی بیعت : ۱۸۹۶ء۔وفات : ۱۰ جون ۱۹۶۶ء تعارف و بیعت: حضرت مولوی برہان الدین جہلمی رضی اللہ عنہ سات بھائی تھے۔ساتوں بڑے پایہ کے عالم تھے اور علیحدہ علیحدہ مساجد کے امام بھی تھے لیکن احمدیت صرف حضرت مولوی برہان الدین صاحب کو نصیب ہوئی۔حضرت مولوی عبد المغنی رضی اللہ عنہ، حضرت مولوی برہان الدین جہلمی کے بیٹے تھے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۶ء کی ہے۔قادیان میں میٹرک کے بعد مولوی فاضل بھی کیا۔فوج میں بھرتی ہو کر پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے اور صو بیدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ملٹری کالج سرائے عالمگیر میں کوارٹر ماسٹر بھی رہے۔ملایا اور پونا شہروں میں رہے۔ریٹائر ہونے کے بعد باغ محلہ شہر جہلم میں تا دم آخر ر ہائش رہی۔( مشہدی پگڑی باندھتے تھے اور کبھی بھی بغیر پگڑی کے نماز ادا نہیں کرتے تھے۔)