تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 232 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 232

232 تک۔جس سے یہ تفہیم ہوئی کہ آئندہ پچیس دنوں تک جو ۳۱ / مارچ تک بنتے ہیں کوئی نیا واقعہ ہونے والا ہے چنانچہ ۳۱ / مارچ ۱۹۰۷ء کو آسمان سے ایک شہاب ثاقب قریباً ۳ بجے دوپہر ٹوٹا جو ملک میں ہر جگہ دیکھا گیا،حضوڑ نے اپنی الہامی پیشگوئی کا ذکر اپنی کتاب حقیقۃ الوحی“ میں کیا ہے ساتھ ہی پچاس سے زائد گواہیاں بھی درج فرمائی ہیں جس میں حیات محمد کنسٹیل پولیس جہلم کی گواہی درج ہے آپ حضور کی خدمت میں لکھتے ہیں : اس بات سے بڑی خوشی ہوئی کہ جس نشان کی نسبت یہ خبر دی گئی تھی کہ ۳۱ / مارچ یا مارچ کے اکتیسویں دن پورا ہوگا وہ نشان آسمانی انگار کے ظہور سے ظاہر ہوگیا۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۳۰) ہجرت قادیان : ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد ۱۹۲۰ء میں آپ ہجرت کر کے قادیان چلے آئے یہاں پہنچ کر سلسلہ کے مختلف کام آنریری طور پر کئے۔آپ بڑھاپے میں بھی جوانوں کی طرح کام کرتے تھے۔آپ کے اند را یک مومنانہ جذبہ اور عشق تھا خدمت سلسلہ کو اپنے ذاتی کاموں اور آراموں پر ترجیح دیتے آپ کو حضرت اقدس کی اولاد سے والہانہ محبت تھی۔پیغامیوں کے فتنہ کا مقابلہ آپ نے ہر جگہ کیا اور ان کے دام نز ویر سے اپنے متعلقین کو بچایا۔وفات: آپ نے ۱۴؍جولائی ۱۹۴۶ء بروز اتوار وفات پائی اور تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔اولاد : آپ کی اہلیہ محترمہ نے حضور کے سفر جہلم کے دوران بیعت کا شرف پایا۔آپ کے بیٹے مکرم صو بیدار میجر محمد عبدالرحمن صاحب تھے۔ماخذ : (۱) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۲) سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۶۹-۷۰ (۳) روزنامه الفضل ۱۵ر جولائی ۲۲۰ را گست ۱۹۴۶ء (۴) تاریخ احمدیت جلد هشتم ☆ ۱۸۹۔حضرت مخدوم مولوی محمد صدیق صاحب بھیرہ ولادت : ۱۸۶۶ء۔بیعت : ۱۸۹۱ء۔وفات :۲۳ فروری ۱۹۲۸ء تعارف : حضرت مخدوم مولوی محمد صدیق رضی اللہ عنہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی کی اولاد میں سے تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۶۶ء میں ہوئی۔مخدوم صاحب کے والد صاحب کا نام مخدوم محمد عثمان صاحب تھا۔پیری مریدی کا سلسلہ آپ کے خاندان میں ایک مدت سے چلا آتا تھا۔آپ کے والد صاحب نے آپ کی تعلیم کے لئے مشہور عالم دین حضرت مولوی خان ملک کھیوال مصنف قانونچہ کو اتالیق مقرر کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے عہد خلافت میں