تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 227
227 ☆ ۱۸۳۔حضرت میاں محمد صاحب جہلم بیعت : ۱۸۹۳ء تعارف و بیعت : حضرت میاں محمد رضی اللہ عنہ جہلم شہر محلہ خواجگاں متصل ڈاکخانہ شہر کے رہنے والے تھے۔اور اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کا اصل نام شیخ محمد شفیع سیٹھی تھا۔۳۱۳ صحابہ کی فہرست میں آپ کا نام حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی نے لکھوایا۔وہ آپ کو اسی نام سے جانتے تھے۔حضرت سیٹھی قادیان آمد و بیعت کے بارہ میں اپنی خود نوشت میں بیان کرتے ہیں: ”ہمارے شہر کے مولوی برہان الدین صاحب حضرت مسیح موعود کے پاس قادیان جایا کرتے تھے۔مولوی صاحب سے میرا بہت تعارف تھا۔وہ بھی پہلے اہلحدیث تھے۔میں بھی اہل حدیث تھا۔۱۸۹۱ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا۔تو شہر اور آس پاس بہت شور وغل رہا۔آخر ۱۸۹۳ء میں بات بہت مشہور ہو گئی اور آپ کا دعویٰ بہت شہرت پکڑ گیا۔ایک دن میں اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو پہلی جماعت ہو چکی تھی۔(آگے پیچھے بھی جاتا تھا ) اس روز حافظ غلام محی الدین سکنہ بھیرہ جو کہ حضرت خلیفہ امسیح اول کے شیر بھائی تھے۔انہوں نے جماعت کرائی تو ہم تین آدمی مقتدی تھے۔جب انہوں نے بلند آواز سے قرآت شروع کی تو وہ دونوں میرے دائیں بائیں سے ہٹ گئے۔میں نے اختلاف کیا۔اور ساتھ نماز ادا کر لی۔حافظ صاحب موصوف بیعت کر چکے ہوئے تھے۔جب نماز ادا کر کے میں گھر آیا تو معا راستہ میں مجھے خیال آیا تو راستے میں ایک آدمی کو کہا کہ میرے ساتھ قادیان چلو۔نصف کرا یہ دیتا ہوں۔یہ صاحب میرے قریبی رشتہ دار تھے۔اس نے کہا مجھے فرصت نہیں۔معا خیال آیا کہ جو حضرت مسیح موعود کو مانتے ہیں وہ دلی صفائی سے مانتے ہیں جو انکار کرتے ہیں وہ بڑی بد زبانی سے ماننے والوں کو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں۔مجھے خیال آیا کہ اے دل تو بھی دیکھ کہ تو کدھر ہوتا ہے۔ماننے والے خوب مانتے ہیں اور لوگوں کی گالیاں سہتے ہیں۔نقصان برداشت کرتے ہیں۔اس سے پہلے میرا حقیقی بڑا بھائی شیخ قمرالدین قادیان سے ہو آیا تھا۔مگر بیعت سے محروم رہا۔لیکن قادیان کی مہمان نوازی کی صفت ضرور کرتا رہا۔دوسرے روز ساڑھے بارہ بجے یا ایک بجے قادیان پہنچ گیا اور مسجد مبارک میں گیا۔جہاں خلیفہ اسیج اول اور مولوی عبد الکریم صاحب، حکیم فضل الدین صاحب علاوہ ان کے اور بھی دو چار آدمی تھے۔حضرت مسیح موعود تشریف لانے والے تھے اور حضور اندر سے معاً تشریف لائے اور صف کھڑی ہوگئی اور امام مولوی عبدالکریم صاحب تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میری دائیں جانب ایک مقتدی چھوڑ کر کھڑے تھے۔بعد نماز حضور سے تعارف ہوا۔یہ سب واقعہ ۱۸۹۳ء کا ہے۔اس روز غالباً جمعرات تھی۔میں نے جب ان کو دیکھا تو ان کے نورانی چہرہ کو دومنٹ