تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 228 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 228

228 تک بھی نظر بھر کر نہ دیکھ سکا۔یہ ہستی جھوٹ بولنے والی نہیں ہے۔جب میں دو تین روز بعد واپس جہلم آیا اور گھر پہنچا تو اس وقت میں بیعت کر چکا ہوا تھا۔( میں نے بیعت گول کمرہ میں جمعہ سے پہلے اکیلے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر کی ) جب دکان پر گیا تو جس بھائی کو میں ساتھ قادیان لے جانا چاہتا تھا اس نے مجھے قادیان خط لکھا تھا کہ میرے لئے وہاں دعا کرنا۔وہ لفافہ واپس جہلم آ گیا۔اس خط کے واپس آنے کے باعث میرے بھائی نے پراپیگنڈہ کیا کہ خط واپس آ گیا ہے۔اب محمد شفیع قادیان جانے کے متعلق انکار کرے گا۔جب دکان پر آیا قدم رکھتے ہی میرے بھائی نے پوچھا کہ کہاں گیا تھا میں نے صاف قادیان کا کہا۔وہ خاموش ہو گیا۔اور پراپیگنڈہ بنا بنایا رہ گیا۔لوگوں میں شہرت ہوگئی کہ ایک بھائی موافق ایک مخالف ہے۔پھر میں قادیان گاہ بگاہ جاتا رہا۔۔جس روز صحابہ ۳۱۳ شمار میں آئے تو خاکسار وہیں تھا۔ہمارے مولوی برہان الدین صاحب بھی وہیں تھے اور بھی بعض بعض جہلم کے لوگوں کے نام ۳۱۳ میں ہیں۔چونکہ مولوی صاحب مجھے میاں محمد کے نام سے یاد کرتے تھے۔یہی نام میرا مولوی صاحب نے لکھوا دیا۔ویسے میرا پورا نام شیخ محمد شفیع سیٹھی ہے۔“ خدمات : ” جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۳ء میں بمقد مہ کرم دین جہلم تشریف لائے اس روز جمعہ تھا۔ہماری جماعت نے وسیع پیمانہ پر انتظام کیا ہوا تھا۔مکانات کوٹھیاں لی ہوئی تھیں۔روٹی کھانے والے مہمانوں کی تعداد ساڑھے چار صد تھی۔یہ تعداد کھانا کھانے والے احمدیوں کی تھی۔ویسے کچہریوں میں دیکھنے والے ہزاروں تھے۔تمام راشن کا انتظام میرے سپرد تھا۔گھوڑے گا ڑیاں بہت دہلی گئی ہوئی تھیں۔تھانیدار میاں سنگھ ڈوگرہ تھا۔تحصیلدار با بو غلام حیدر تھا۔ان کو ہم نے عرض کیا کہ جتنی گاڑیاں ہیں۔ہمیں دی جائیں۔سب کا کرایہ ہم ادا کریں گے۔مرید کئے اور کامونکی کے درمیان حضور کو الہام ہوا کہ ہمارے بسترے روساء اٹھا ئینگے۔تو معا جہلم گاڑی جاتے ہی ان دونوں نے بھی اٹھائے۔جس کے باعث وہ الہام پورا ہوا۔دوسرا الہام ہوا کہ لوگ درختوں پر چڑھ کر تم کو دیکھیں گے۔سو ویسا ہی ہوا۔جگہ کی قلت کے باعث لوگ درختوں پر چڑھ کر حضور کو دیکھتے رہے۔“ آپ ۱۹۱۷ میں حافظ آباد اور ۱۹۱۹ ء وزیر آباد شفٹ ہو گئے۔چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں: در جہلم بہت مخالفت رہی۔لوگوں نے زور لگایا کہ میرے اور میرے بھائی میں نفاق پڑے۔میں نے بھائی سے کہا کہ میرے بیٹھے حضرت صاحب کی ہجو نہ کیا کرو۔میں ان کے متعلق تجھے کچھ نہ کہا کرونگا مگر باز نہ آیا نا چار میں اس سے الگ ہو گیا۔اس نے مجھے بڑی مالی ضرب لگائی۔میرے بچوں کی منگنیاں رکوا دیں مگر میں نے معاملہ خدا کے سپرد کیا۔زمانہ گزرتا گیا۔مخالفت بڑھتی گئی۔میرے بچوں کے رشتے چھینے گئے۔مگر اللہ نے ہر میدان میں کامیاب ثابت رکھا۔اور خدا نے احمدیوں کے ہاں رشتہ کی تجویزوں کو کامیاب کیا۔مخالف پھر رشتے دیتے تھے مگر نہ لئے۔میں ۱۹۱۷ء میں اپنی دکان جہلم سے منتقل کر کے حافظ آباد گیا۔وہاں جماعت احمد یہ بنائی۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی بھی جایا کرتے تھے۔میں ۱۹۱۹ ء تک وہاں رہا۔ماخذ: (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن ۱۱ (۲) رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۳ صفحه ۲۰۰،۱۹۶۔