تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 224
224 ایک نظارہ دکھایا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بہت سے عالی مرتبہ صحابہ کے ساتھ تھے اور ایک شخص ایسا تھا کہ جس کا لباس مختلف تھا۔دریافت کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہذا عیسیٰ اور فرمایا کہ یہ قادیان میں رہتا ہے اور تم اس پر ایمان لانا۔حافظ صاحب نے قادیان کی تلاش کی جولدھیانہ میں ایک گاؤں ہے لیکن کچھ نہ معلوم ہوسکا۔جب حضرت مسیح موعود لدھیانہ تشریف لے گئے تو آپ کا نام سن کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ وہی وجود ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔آپ کا نام ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو ۵ نمبر پر رجسٹر بیعت میں درج ہے۔قادیان آمد اور کاروبار : حافظ صاحب ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔آپ پشمینہ کے سوداگر تھے۔آپ کو ایک بار کاروبار میں سخت خسارہ ہو گیا۔کاروبار تقریبا بند ہو گیا۔آپ کا روبار کے لئے کسی دوسری جگہ چلے جانا چاہتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ روپیہ مانگا۔حضور ایک صندوقچی جس میں روپیہ رکھا کرتے تھے، اٹھا کر لے آئے اور آپ کے سامنے صندوقچی رکھ دی کہ جتنا چاہے لے لو اور اس بے تکلفی سے حضور کو بہت خوشی ہوئی۔حضرت حافظ صاحب نے اپنی ضرورت کے مطابق لے لیا گو حضور یہی فرماتے رہے سارا ہی لے لو۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس مسیح موعود نے آپ کی نسبت لکھا کہ آپ اول درجہ کے اخلاص رکھنے والے ہیں اور ہمیشہ اپنے مال سے خدمت کرتے رہتے ہیں۔حضرت اقدس نے آپ کا ذکر ازالہ اوہام، آسمانی فیصلہ آئینہ کمالات اسلام و سراج منیر میں جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں اور چندہ دہندگان میں کیا ہے۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام (۲) آئینہ کمالات اسلام (۳) آسمانی فیصلہ (۴) سراج منیر (۵) سیرۃ المہدی جلد دوم صفحه ۱۱۶ (۶) سیرت حضرت مسیح موعود جلد سوم صفحہ ۳۱۶۔۳۱۷ (۷) رجسٹر بیعت مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۴۶ ☆ ۱۷۹۔حضرت میاں کرم الہی صاحب لاہور بیعت : ۱۸۹۱ء تعارف و بیعت : حضرت منشی کرم الہبی رضی اللہ عنہ مدرس نصرت الاسلام لاہور تھے۔ان کی رہائش تکیہ سادھواں میں تھی۔آپ حضرت سید فضل شاہ اور حضرت سید ناصر شاہ کے ماموں تھے۔جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں شرکت کی۔ازالہ اوہام کی تصنیف کے زمانہ میں احمدیت میں داخل ہو چکے تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں شمولیت کی توفیق پائی۔حضرت اقدس نے ازالہ