تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 209
209 اقدس مسیح موعود نے فرمایا ( جس میں ڈاکٹر صاحب کی وفات کا بھی ذکر ہے۔) ”ہماری جماعت جواب ایک لاکھ تک پہنچی ہے۔سب آپس میں بھائی ہیں۔اس لئے اتنے بڑے کنبہ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی نہ کوئی دردناک آواز نہ آتی ہو۔جو گزر گئے وہ بھی بڑے ہی مخلص تھے۔جیسے ڈاکٹر بوڑے خان سید فصیلت علی شاہ ایوب بیگ منشی جلال الدین۔خدا ان سب پر رحم کرے۔“ ڈاکٹر صاحب جب آخری دفعہ قادیان آئے تو واپسی پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام آپ کو چھوڑنے کے لئے ساتھ ساتھ چلتے موڑ تک تشریف لے آئے۔یکہ خالی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ڈاکٹر صاحب نے رستہ میں ایک دفعہ اصرار بھی کیا کہ حضور اب واپس تشریف لے جائیں مگر حضور موڑ تک تشریف لے آئے۔وفات: اس کے چند دن بعد حضرت ڈاکٹر بوڑے خان صاحب کسی مریض کا آپریشن کر رہے تھے کہ ان کے ہاتھ پر نشتر لگ گیا اور اس نشتر کے زہر سے ان کی موت واقع ہوگئی۔آپ کی نماز جنازہ حضرت مسیح موعود نے پڑھائی۔حضرت مسیح موعود اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں اپنے ایک نشان کے متعلق فرماتے ہیں: ۲۴ نشان۔۳۰ / جون ۱۸۹۹ء میں مجھے یہ الہام ہوا پہلے بے ہوشی ، پھر شی پھر موت۔ساتھ ہی اس کے یہ تفہیم ہوئی کہ یہ الہام ایک مخلص دوست کی نسبت ہے جس کی موت سے ہمیں رنج پہنچے گا۔چنانچہ اپنی جماعت کے بہت سے لوگوں کو یہ الہام سنایا گیا۔۔۔پھر آخر جولائی ۱۸۹۹ء میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست ڈاکٹر محمد بوڑے خاں اسٹنٹ سرجن ایک نا گہانی موت سے قصور میں گزر گئے۔اول بے ہوش رہے پھر ایک دفعہ غشی طاری ہوگئی پھر اس نا پائیدار دنیا سے کوچ کیا اور ان کی موت اور اس الہام میں صرف ہیں بائیس دن کا فرق تھا۔“ حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی جلسہ میں شرکت کرنے والوں میں بھی آپ کا نام تحریر فرمایا ہے۔ماخذ : (۱) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحه ۱۹۵ (۴) اخبار الحکم، ۱ را کتوبر ۱۹۰۲ء ملفوظات جلد دوم۔☆ ۱۶۱۔حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب۔لاہور حال چکرانہ ولادت: ۱۸۶۶ء۔بیعت: ۲ /جنوری ۱۸۹۲ء۔وفات: یکم جولائی ۱۹۲۶ء تعارف: حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کا حسب و نسب حضرت ابوبکر صدیق سے ملتا ہے۔یہ خاندان خلیفہ بدیع الدین کی سرکردگی میں ہندوستان آیا خاندان کا کچھ حصہ ممبئی میں اور باقی کالا ہور ٹھہرا۔آپ کے والد ماجد خلیفہ حمید الدین صاحب انجمن حمایت اسلام لاہور کے بانیوں میں سے تھے۔خلیفہ حمید الدین صاحب کی رہائش اندرون موچی گیٹ تھی۔آپ ہی کے وقت انجمن حمایت اسلام کے تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔آپ انجمن کے صدر