تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 197
197 كَ إِنَّ لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۔اَلْعَيْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ يَحْزَنُ وَإِنَّا بِفِراقِهِ لَمَحْزُونُونَ ميرزا صاحب مرحوم جس قدر مجھ سے محض اللہ محبت رکھتے اور جس قدر مجھ میں فنا ہورہے تھے میں کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں تا اس عشقی مرتبہ کو بیان کر سکوں اور جس قدر ان کی بے وقت مفارقت سے مجھے غم واندوہ پہنچا ہے میں اپنے گزشتہ زمانہ میں اس کی نظیر بہت ہی کم دیکھتا ہوں۔وہ ہمارے فرط اور ہمارے میر منزل ہیں جو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہم سے رخصت ہو گئے۔جب تک ہم زندہ رہیں گے ان کی مفارقت کا غم ہمیں کبھی نہیں بھولے گا۔در دیست در دلم که گر از پیش آب چشم بردارم آستیں پرود تا بدامنم اُن کی مفارقت کی یاد سے طبیعت میں اُداسی اور سینہ میں قلق کے غلبہ سے کچھ خلش اور دل میں غم اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ان کا تمام وجود محبت سے بھر گیا تھا۔میرزا صاحب مرحوم محبانہ جوشوں کے ظاہر کرنے کے لئے بڑے بہادر تھے۔انہوں نے اپنی تمام زندگی اسی راہ میں وقف کر رکھی تھی۔مجھے امید نہیں کہ انہیں کوئی اور خواب بھی آتی ہو۔اگر چہ میرزا صاحب بہت قلیل البضاعت آدمی تھے مگران کی نگاہ میں دینی خدمتوں کے محل پر جو ہمیشہ کرتے رہتے تھے خاک سے زیادہ مال بے قدر تھا۔اسرار معرفت کے سمجھنے کے لئے نہایت درجہ کا فہم سلیم رکھتے تھے۔محبت سے بھرا ہوا یقین جو اس عاجز کی نسبت وہ رکھتے تھے خدا تعالیٰ کے تصرف تام کا ایک معجزہ تھا ان کے دیکھنے سے طبیعت ایسی خوش ہو جاتی تھی جیسے ایک پھولوں اور پھلوں سے بھرے ہوئے باغ کو دیکھ کر طبیعت خوش ہوتی ہے۔“ وو ازالہ اوہام میں حضرت اقدس فرماتے ہیں۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۹) ان دونوں بزرگوار بھائیوں ( مرزا عظیم بیگ مرحوم و مرزا محمد یوسف بیگ) کی نسبت میں ہمیشہ حیران رہا کہ اخلاق اور محبت کے میدانوں میں زیادہ کس کو قر اردوں۔“ (ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۰) حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے فتح اسلام ، ازالہ اوہام میں اپنے مخلصین میں اور تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی کے شرکاء میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔وفات : آپ کی وفات ۱۳۰۸ھ بمطابق ۱۸۹۰ء میں ہوئی۔ماخذ: (۱) فتح اسلام صفحہ ۶۷ (۲) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۳) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۳۳۹۔