تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 169
169 بیعت : آپ کی بیعت ۱۸۹۲ء کی ہے۔حضرت مسیح موعود جب اپنے آخری ایام زندگی میں لاہور تشریف لائے تو جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد خلیفہ صاحب نے حضرت صاحب سے سوال کیا اس پر حضرت اقدس نے ایک تقریر فرمائی جو بعد میں ”حجۃ اللہ کے نام سے شائع ہوگئی۔۱۹۱۳ء میں جب اخبار ”پیغام صلح جاری ہوا تو خلیفہ صاحب کو اس کا مینیجر اور پرنٹر و پبلشر مقرر کیا گیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر آئینہ کمالات اسلام، آسمانی فیصلہ میں جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں میں تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں کیا ہے۔وفات : آپ کی وفات ۱۹۱۴ء میں ہوئی۔خلافت اولی کے بعد غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد۲ (۳) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) لا ہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۴۶ (۶) ''یاد رفتگان صفحه ۲۱ تا ۲۶ -۱۱۳ حضرت پیر جی خدا بخش صاحب مرحوم۔ڈیرہ دون بیعت : ۲۴ مئی ۱۸۸۹ء۔وفات: ۱۸۹۷ء سے قبل : تعارف: حضرت پیر جی خدا بخش رضی اللہ عنہ کے والد میاں محمد رمضان اصل ساکن نجیب آباد ضلع بجنور بعده مستقل سکونت دھاما نوالہ ڈیرہ دون محلہ میں تھی۔آپ ڈیرہ دون (یوپی) انڈیا میں اسلحہ کے ایک بڑے سوداگر تھے۔آپ پہلے حنفی مسلک اور مذہباً دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے پھر اہل حدیث ہو گئے۔آپ اپنے زہد و عبادت اور تقویٰ کی وجہ سے عوام و خواص میں پیر جی کے نام سے مشہور تھے۔حضرت اقدس کے دعوی کی تحقیق : جب آپ نے سنا کہ قادیان ( پنجاب ) میں کسی شخص نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو کہا امام مہدی کے ظہور کا زمانہ تو یہی ہے اور اپنے دوست حکیم حافظ مولوی محمد یعقوب خان صاحب کے مشورہ سے چند سوالات حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت میں بھجوائے۔قادیان سے حضرت کا جواب آیا تو آپ کی تسلی ہوگی لیکن آپ کے دوست حکیم صاحب نے کہا کہ ہمیں عجلت سے کام نہیں لینا چاہئیے قادیان چل کر مزید تحقیق کرلیں۔آپ نے اپنی آمد کی اطلاع حضرت اقدس کی خدمت میں بھجوائی۔ڈیرہ دون سے بٹالہ پہنچے اور بٹالہ سے یکہ پر سوار ہو کر قادیان آرہے تھے کہ ادھر سے کچھ گرد و غبار سا نظر آیا۔جب بالکل قریب پہنچے تو یکہ سے اتر پڑے۔حضرت خدا بخش صاحب نے اپنی فراست سے پہچان لیا کہ یہ مرزا صاحب ہیں۔چنانچہ آپ نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا۔حضرت حکیم حافظ مولوی یعقوب صاحب نے حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب گومرزا صاحب سمجھ کر مصافحہ