تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 163 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 163

163 ☆ ۱۰۵۔حضرت منشی قمر الدین صاحب لودیا نہ ولادت : ۱۸۵۶ء۔بیعت : ۱۸۹۱ء۔وفات : ۲۲ نومبر ۱۹۲۶ء تعارف و بیعت : حضرت منشی قمر الدین رضی اللہ عنہ لودھیانہ کے رہنے والے تھے۔آپ کا سن ولادت ۱۸۵۶ء ہے۔آپ کے والد صاحب کا نام حضرت منشی محمدابراہیم ( نمبر ۱۰۴) تھا۔آپ نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی تعلیم بھی حاصل کی مینشی فاضل کا امتحان پاس کر کے محکمہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔۱۸ سال کی عمر میں محکمہ تعلیم کی نوکری مل گئی اور ایک لمبا عرصہ محکمہ تعلیم میں ملازم رہے۔آپ کی مخالفت کے باوجود مدرس کے طور پر آپ کا تقرر بحال رکھا گیا۔آپ تقریباً ۲۰ سال تک جماعت احمد یہ لدھیانہ کے محاسب، سیکرٹری اور صدر رہے۔معاند احمد بیت سعد اللہ لدھیانوی جب اپنی نظموں میں جماعت احمدیہ کے خلاف گندہ دہنی کرتے تو آپ مومنانہ طور پر اس کا جواب دیتے رہے۔۱۹۱۴ء میں نظام خلافت کے استحکام کے لئے موثر کوشش کی اور ہر قسم کے فتنوں کا مقابلہ کیا۔حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔وفات : آپ نے ۲۲ نومبر ۱۹۲۶ء کوہ ے سال کی عمر میں وفات پائی۔اولاد: آپ کے بیٹے حضرت بابو شیخ غلام حسین صاحب جماعت احمد یہ دہلی کے ۳۵ سال تک سیکرٹری مال رہے جو ۱۵؍ دسمبر ۱۹۵۳ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔عمر ۶۰ سال تھی۔حضرت بابو صاحب اور آپ کے والد اور ان کے والد رفقا بانی سلسلہ احمد یہ تھے یعنی والد اور دا د ۳۱۳ رفقاء میں شامل تھے۔آپ کی اولا دایک بیٹا اور چھ بیٹیاں ہیں۔قمصد ماخذ: (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) مصلح کراچی ۷ اردیسمبر ۱۹۵۳ء۔☆ ۱۰۶۔حضرت حاجی محمد امیر خان صاحب۔سہارنپور بیعت :۲۱ / فروری ۱۸۹۲ء تعارف: حضرت حاجی محمد امیر خان رضی اللہ عنہ سہارنپور ریاست پیالہ کے تھے۔اور آپ کے والد کا نام مکرم چوہڑ خان صاحب تھا حضرت صاحبزادہ پیر افتخار احمد لدھیانوی کی روایت کے مطابق جب ان کے والد ماجد حضرت صوفی احمد جان رضی اللہ عنہ حج بیت اللہ کے لئے گئے تو ان کے ساتھ تقریباً نہیں افراد کا قافلہ تھا۔جس میں حضرت محمد امیر بھی شامل تھے اور جو عبارت ( حج بیت اللہ میں ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے پڑھی جاتی تھی۔