تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 162 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 162

162 ☆ ۱۰۴۔حضرت منشی ابراہیم صاحب لود یا نه بیعت ۱۸۹۱ ء وفات دسمبر / ۱۹۰۹ء تعارف و بیعت : حضرت منشی ابراہیم رضی اللہ عنہ کا اصل وطن ہوشیار پور تھا لیکن سکھا شاہی کی تکالیف اور مصائب دیکھ کر لودھیانہ چلے گئے۔آپ کی ابتدائی تعلیم مشن سکول لدھیانہ سے ہوئی۔آپ کا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا۔آپ ۶۰ سال کی عمر میں حضرت صوفی احمد جان کے مریدوں میں داخل ہوئے۔حضرت صوفی احمد جان نے ایک اشتہار حضرت مجدد زمان کی تائید میں دیا اس سے متاثر ہو کر آپ نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔بیعت کے بعد لدھیانہ کے علماء نے آپ کی شدید مکالفت کی لیکن حضرت منشی صاحب نے کمال ہمت اور استقلال سے مقابلہ کیا۔ازالہ اوہام میں آپ کا نام چندہ دہندگان میں درج ہے اور آئینہ کمالات اسلام میں ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے والوں میں نام درج ہے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ ۱۸۹۱ء کی ہے۔آپ السابقون الاولون میں سے تھے۔آپ مطب بھی کرتے رہے اور کچھ عرصہ مشین پریس میں کام کرتے رہے۔تجارت بھی آپ کا شغل رہا۔بیعت کے بعد آپ کی عبادت میں حقیقی حسن پیدا ہو گیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں چندہ دہندگان اور آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے سلسلہ میں ذکر فرمایا ہے۔وفات حضرت منشی ابراہیم صاحب نے 110 سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ ۱۹۰۸ء میں نظام وصیت میں شامل ہوئے۔اخبار البدر۷ار دسمبر ۱۹۰۹ ء صفحه ۸) اولاد آپ کے بیٹے حضرت منشی قمر الدین تھے جو یکے از ۳۱۳ رفقاء میں سے تھے۔ایک پوتے بابو غلام حسین صاحب ۳۵ سال تک جماعت احمد یہ دہلی کے سیکرٹری مال رہے۔۱۵ دسمبر ۱۹۵۳ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔ماخذ : (1) ازاله او بام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) کتاب البر یہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) «المصلح، کراچی ۷ دسمبر ۱۹۵۳ ، صفحه (۵) احکم قادیان ۲۱ / اپریل ۱۹۳۴ء (۶) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلدا (۷) اخبار بدر قادیان ۱۷ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۸ -