تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 159 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 159

159 تھی اور زمانہ ۱۸۸۸ء یا ۱۸۸۹ء کا تھا۔آپ پانچویں کلاس میں پڑھتے تھے اور اس زمانہ کے مدارس کے نصاب میں ایک کتاب ”رسوم ہند شامل تھی۔جوطلباء کو سبقا سبق پڑھائی جاتی تھی۔اس کتاب نے آپ پر مقناطیسی اثر کیا۔آپ ظلمات کی گھٹا سے نکل کر اُجالے میں آگئے اور آپ کے خیالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ بت پرستی کے موروثی جذ بہ پر بت شکنی اور وحدانیت کا فطرتی نور غالب آ گیا۔۱۸۹۱ء میں ضلع قصور کے عیسائی مشنریوں نے چونیاں کے علاقہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا۔لوگ ان کی طرف مائل تھے۔صرف مسلمان ہی تھے جو بغیر دولہا کی برات تھے۔منتشر اور بکھری ہوئی بھیڑوں کی طرح ان کو جو چاہتا اُچک لیتا کوئی نگران تھا نہ پاسبان۔بعض خاندانی لوگ عیسائیت کا شکار ہو گئے اور بعض آرین خیالات کی وجہ سے دہریہ بن گئے۔آپ ان ہر دو مجالس میں شامل ہوتے لیکن یہ بات کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے آپ کے دل میں میخ فولادی کی مانند گڑ گئی تھی۔احمدیت سے تعارف : ۱۸۹۴ء کے ماہ رمضان میں مہدی آخر الزمان کے ظہور کی مشہور علامت یعنی کسوف و خسوف پوری ہوئی تو آپ کے سکول کے ہیڈ ماسٹر مولوی جمال الدین صاحب نے کمرہ جماعت میں بتایا کہ ”مہدی آخر الزمان کی اب تلاش کرنا چاہئے وہ ضرور کسی غار میں پیدا ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے ظہور کی بڑی علامت آج پوری ہو گئی ہے اس خبر نے آپ کے دل پر عجیب اثر کیا اور آپ کو مہدی آخرالزماں کی زیارت کی تڑپ پیدا ہوگئی۔یہ سلسلہ جاری تھا کہ چونیاں میں ڈاکٹر سید میر حیدر صاحب حکمت خداوندی سے تعینات ہوئے۔وہ حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کے رشتہ دار تھے۔ڈاکٹر صاحب کے ایک صاحبزادے سید بشیر حیدر آپ کے کلاس فیلو تھے۔وہ آپ سے بہت محبت سے پیش آیا کرتے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود کا نام ابھی تک آپ نے نہ سنا تھا۔پہلی بار ایک لڑکا جو لا ہور گیا تو اس نے واپسی پر بتایا کہ ایک مسلمان مولوی نے جو بڑا عالم ہے ایک انگریز کی موت کی پیشگوئی کی اور وہ پوری ہوگئی اور وہ دور کہیں روس کی سرحد پر رہتا ہے۔اس دوران آپ کے والد صاحب تبدیل ہو کر کہیں دور لائل پور کے علاقہ میں چلے گئے۔حضرت بھائی جی کی سید بشیر حیدر صاحب سے خط و کتابت جاری تھی جس کا آپ کے والدین برا مناتے اور سمجھتے کہ یہ مسلمان ہو چکا ہے اس لئے آپ کو اس تعلق سے منع کرتے تھے۔آپ کو والدین نے تلاش روزگار کے لئے بھجوایا۔کاریگری آپ جانتے تھے یعنی پارے کا گلاس بنانا جو آپ نے اپنے والد صاحب سے سیکھا تھا۔اس دوران آپ حسب وعدہ بذریعہ خط و کتابت سید بشیر حیدر کے پاس سیالکوٹ پہنچے۔قادیان میں آمد اور بیعت : ایک دن سید بشیر حیدر صاحب کی کتابوں میں آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود کی کتابیں ”نشان آسمانی “ اور ” انوار الاسلام ملیں جو آپ نے بالاستیعاب پڑھیں۔ان کے بارے میں سید بشیر حیدر صاحب کے بالا خانہ پر روزانہ بحث ہوا کرتی تھی چونکہ آپ کتب کے دلائل سے متاثر تھے اس لئے ان کی تائید میں دلائل دیتے جس سے ہندو آپ کے خیالات کا برا مناتے تھے۔اس طرح آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود اور آپ