تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 160 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 160

160 کے دعوی سے متعلق تفصیلی تعارف ہو گیا اور آپ کے دل میں قادیان جانے کی آرزو مچلنے لگی۔حضرت سید میر حامد شاہ کے پاس ماجرا عرض کیا گیا تو آپ نے کہا قادیان چلے جاؤ اور ایک رقعہ حضرت مولوی عبد الکریم سیالکوٹی" کے نام لکھ دیا۔آپ قادیان گئے تو حضرت مولوی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا یہ لڑکا نابالغ ہے ایسانہ ہو کہ ہندو کوئی فتنہ کھڑا کر دیں۔مولوی صاحب نے عرض کیا لڑکا سمجھدار اور خوب سوچ کے آیا ہے۔اس پر آپ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا کہ میں نے حضور کی کتاب ”انوار الاسلام “ اور ”نشانِ آسمانی“ کو اچھی طرح پڑھا ہے مجھے اسلام کا شوق ہے میں جوان اور بالغ ہوں وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ بھائی جی بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔یہ اکتوبر ۱۸۹۵ء کا زمانہ تھا۔پھر ایک لمبے عرصہ تک ابتلاء وامتحان میں گزرے بڑی اذیتیں برداشت کیں۔مگر ہر امتحان میں ثابت قدم رہے۔خدمات دینیہ : آپ حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے دور میں پہرہ دینے ، بٹالہ سے ڈاک لانے اور لے جانے اسی طرح لنگر کے لئے آٹا فراہم کرنے کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔جلسہ مذاہب عالم سے پہلے اشتہارات لے کر آپ ہی قادیان سے لاہور گئے۔پھر لاہور ہی میں حضرت اقدس کی آخری علالت میں جہاں حضرت اقدس کی خدمت کا موقع ملا وہاں آخری زیارت کرانے کی ذمہ داری بھی آپ نے سرانجام دی۔ہر مالی تحریک میں نمایاں حصہ لیا۔آپ حضرت اقدس کے عاشق صادق تھے اور اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ قادیانی لکھا کرتے تھے۔آپ کو بھائی جی پکارا جاتا تھا۔اسطرح آپکا پورا نام بھائی جی عبدالرحمن قادیانی پڑ گیا۔آپ صدر انجمن احمد یہ قادیان کے رکن تھے اور کئی دفعہ امیر مقامی اور قائم مقام ناظر اعلیٰ بھی رہے۔حضرت اقدس مسیح موعود کا یہ جملہ آپ کی قدر و منزلت کو ظاہر کرتا ہے۔جب بیعت کے وقت حضرت اقدس نے حضرت خلیفتہ اسیح الاول کی تشویش پر فرمایا: ”ہمارا ہے تو آ جائے گا“ ۱۹۲۴ ء میں آپ کو سفر انگلستان میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے رفیق سفراور ڈائری نویس ہونے کا شرف ملا اور آپ روئیداد سفر پر ڈائری مرتب کر کے قادیان بھجواتے رہے جو قادیان میں پڑھ کر سنائی جاتی رہی۔وفات و تدفین : آپ نے ۵/ جنوری ۱۹۶۱ء عمر ۸۲ سال دورانِ سفر کراچی بمقام خانیوال وفات پائی۔لاہور اور ربوہ میں جنازہ ہوا۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔اولاد: حضرت بھائی جی کی شادی ڈنگہ ضلع گجرات کے ایک مخلص احمدی شیخ محمد دین کی بیٹی محترمہ زینب بیگم صاحبہ سے ہوئی۔جن سے آپ کی نرینہ اولاد (۱) مکرم مہتہ عبد الخالق صاحب (لاہور ) معروف جیالوجسٹ ( حکومت پاکستان کے مشیر رہے ہیں ) (۲) مکرم مہتہ عبدالسلام صاحب (۳) مکرم مہتہ عبدالقادر صاحب ( کراچی ) ہیں۔ماخذ : (۱) ملفوظات حضرت اقدس (۲) سیرت و سوانح حضرت بھائی جی عبد الرحمن صاحب قادیانی (۳) الفضل ۱۹ نومبر ۲۰۰۱ء(۴) اصحاب احمد جلد نہم (۵) ماہنامہ انصار اللہ صد سالہ جوبلی نمبر ۱۹۸۹ء (۶) سفر یورپ ۱۹۲۴ء۔