تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 147
147 ☆ ۹۲ - حضرت مولوی فیض احمد صاحب لنگیاں والی۔گوجرانوالہ بیعت : ۸ ستمبر ۱۸۹۲ء تعارف و بیعت : حضرت (ڈاکٹر) مولوی فیض احمد رضی اللہ عنہ لنگیا نوالی ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے لیکن بیعت کے دنوں میں ضلع جہلم میں بطور ویکسی نیٹر (vaccinator) کام کر رہے تھے۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کی بیعت ۳۵۱ نمبر پر ہے جو ۸ ستمبر ۱۸۹۲ء کی ہے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کی ایک تقریر میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معاصر علمائے کرام میں شامل کیا گیا ہے۔آپ کے ایک بڑے بھائی حضرت میاں حسن احمد صاحب کی وفات کا ذکر الحکم ۲۴ / جولائی ۱۹۰۱، صفحہ ۱۳ کالم ۳ پر موجود ہے۔اولاد مکرم ناصر احمد صاحب جموں آپ کے بیٹے تھے جو ۱/۸ کتو بر ۱۹۹۳ء کو وفات پاگئے۔(نوٹ) آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۳۵۶ (۲) اخبار الحکم قادیان جولائی ۱۹۰۱ء (۳) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسه سالانه ۱۹۶۴ء ☆ ۹۳۔حضرت سید محمود شاہ صاحب مرحوم۔سیالکوٹ بیعت: ۲۷ / مارچ ۱۸۹۱ء تعارف: حضرت سید محمود شاہ رضی اللہ عنہ حضرت حکیم میر حسام الدین کے بیٹے تھے۔آپ کے بڑے بھائی حضرت سید میر حامد شاہ بھی ۳۱۳ صحابہ میں شامل تھے۔آپکے خاندان کے بزرگوں سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قریبی دوستانہ مراسم تھے۔بیعت : آپ اتفاق سے لدھیانہ گئے ہوئے تھے۔وہیں آپ نے بیعت کر لی۔آپ کی بیعت کے بعد حضرت میر حامد شاہ صاحب اور ان کے بہنوئی حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب نے بیعت کی۔آپ کے خاندان میں آمد ”امام“ کا پہلے سے تذکرہ تھا۔حضرت چنانچہ سید فصیلت علی شاہ صاحب کی ایک خالہ نے ایک رات آپ کے والد کو آواز دے کر کہا کہ بین لوامام سات سال کا ہو گیا ہے۔