تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 146 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 146

146 ☆ ۹۱ - حضرت مولوی حسن علی صاحب مرحوم۔۔۔۔۔بھاگلپور ولادت : ۲۲ / اکتوبر ۱۸۵۲ء۔بیعت : ۱۸۹۴ء۔وفات : فروری ۱۸۹۶ء تعارف: حضرت مولوی حسن علی رضی اللہ عنہ بھاگلپوری پٹنہ بہار میں ٹیچر تھے۔آپ کی ولادت ۲۲ را کتوبر۱۸۵۲ء کو ہوئی۔حضرت مسیح موعود کی پہلی ملاقات کے لئے ۱۸۸۷ء میں قادیان آئے۔آپ حضور اقدس سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : میں مرزا صاحب سے رخصت ہوا۔چلتے وقت انہوں نے اس کمترین کو براہین احمدیہ اور سرمہ چشم آریہ کی ایک ایک جلد عنایت کی۔انہیں میں نے پڑھا۔ان کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ جناب مرزا صاحب بہت بڑے رتبے کے مصنف ہیں۔خاص کر براہین احمدیہ میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر دیکھ کر مجھ کو کمال درجہ کی حیرت مرزا صاحب کی ذہانت پر ہوئی۔“ بیعت : آپ حضور کی دوسری ملاقات کے لئے ۱۸۹۴ء میں قادیان آئے اور بیعت کر لی۔دینی خدمات: آپ کی مساعی سے برٹش انڈیا میں بہت سی سعید روحیں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں شامل ہوئیں۔پروفیسر آرنلڈ (Prof۔Arnold) لنڈن یونیورسٹی نے اپنی کتاب ”پریچنگ آف اسلام“ (Preaching of Islam) ۱۹۱۳ء صفحہ ۳۸۳ پر آپ کی خدمات کو ز بر دست خراج تحسین ادا کیا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ۱۸۹۴ء میں آپ کو مغربی ممالک کے اولین واعظ کی حیثیت سے منتخب فرمایا۔مگر افسوس زندگی نے وفا نہ کی۔آپ نے ایک کتاب تائید حق، تصنیف فرمائی جسے حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب آف مدراس نے پنجاب پر لیس سیالکوٹ سے زیر اہتمام حضرت منشی غلام قادر فصیح " شائع کرایا۔آپ پٹنہ (بہار) ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔آپ فصیح البیان واعظ تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر ہے۔وفات : آپ نے فروری ۱۸۹۶ء میں وفات پائی۔بھاگلپور شہر کے شاہ جنگی قبرستان میں تدفین ہوئی۔ماخذ : (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) رساله نور احمد (۳) رسالہ تائید حق (۴) اصحاب احمد جلد دہم