تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 107 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 107

107 ☆ ۵۷۔حضرت حاجی احمد صاحب۔۔۔بخارا ولادت : ۱۸۶۰ء۔بیعت : ۱۸۹۴ء۔وفات : ۱۹۲۴ء ابتدائی حالات و بیعت: حضرت حاجی احمد بخارا رضی اللہ عنہ کا اصل وطن بھیرہ تھا۔آپ اپنے بچپن میں والدین کے ہمراہ حج پر تشریف لے گئے۔مکہ شریف پہنچنے پر آپ کے والدین کا انتقال ہو گیا۔اس بے بسی کے عالم میں حضرت حکیم مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ بھیروی سے خانہ کعبہ کے احاطہ میں ملاقات ہو گئی اور انہی کے پاس رہنے لگے۔حضرت مولوی صاحب کی دعا سے آپ خوشحال ہو گئے۔آپ نشان کسوف و خسوف کے تحریری گواہ تھے۔(نوٹ) حضرت اقدس اپنے عالی مرتبہ سے حکام کو اپنا اور اپنی جماعت کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتے ہیں۔ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے۔اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع اور حیدر آباد داور بمبئی اور مدراس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔وو حضرت اقدس نے جو یہاں ”بخارا کا ذکر فرمایا ہے۔ممکن ہے بخارا کی اسی شخصیت کی طرف اشارہ مقصود ہو۔وفات : آپ کا وصال ۱۹۲۴ء میں ہوا۔اولاد آپ کے فرزند فضل احمد صاحب رفیق بانی سلسلہ احمدیہ ہیں ( ولادت ۱۸۸۱ء، وفات ۱۹۳۶ء) ماخذ : (۱) کشف الغطاء روحانی خزائن جلد ۱۴ (۲) ” بھیرہ کی تاریخ احمدیت (۳) سیرت صحابه ضلع سرگودها مرتبه افتخار احمد گوندل ( غیر مطبوعہ مقالہ جامعہ احمد یه ۱۹۸۳ء) ☆ ۵۸۔حضرت حافظ نورمحمد صاحب۔فیض اللہ چک ولادت: ۱۸۴۶ء۔بیعت : ۲۱ / ستمبر ۱۸۸۹ء۔وفات : ۲۷/ دسمبر ۱۹۴۶ء تعارف : حضرت حافظ نور محمد رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام شیخ مراد علی صاحب تھا آپ کی قوم گلے زئی (افغان) تھی۔آپ کا تعلق قادیان کے نزدیکی گاؤں فیض اللہ چک ضلع گورداسپور سے تھا۔آپ کی ولادت سال ۱۸۴۶ء میں ہوئی۔بیعت : آپ نے ۲۱ دسمبر ۱۸۸۹ء کو بیعت کا شرف حاصل کیا رجسٹر بیعت اولیٰ میں نمبر ۱۴۶ پر آپ کا نام درج