تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 93
93 وفات حضرت شیخ شہاب الدین صاحب نے 4 نومبر ۱۹۰۷ء کو قادیان ہی میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ا حصہ نمبر ۳ میں بلا وصیت دفن ہوئے۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۴۲،۵۴۱ (۲) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲ (۳) تحفه قیصر یہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۳(۵) سیرت حضرت مسیح موعود صفحه ۱۸۲ ☆ ۴۷۔حضرت شہزادہ عبدالمجید صاحب۔۔۔۔۔لودیانه بیعت : ۱۸۸۹ء۔وفات :۲۳ فروری ۱۹۲۸ء تعارف: حضرت عبدالمجید رضی اللہ عنہ کابل کے مشہور درانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کا خاندان ہجرت کر کے لدھیانہ آ گیا اور شاہی پناہ گزین کی حیثیت سے آپ کے خاندان کو کئی پشتوں تک گورنمنٹ سے پنشن ملتی رہی۔آپ گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ سے رسمی تعلیم حاصل کر کے دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کی صحبت کو اختیار کیا۔ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ملازمت اختیار کی۔حضرت اقدس سے تعلق : حضرت مسیح موعود کی پہلی بار زیارت صوفی احمد جان کے ذریعہ لدھیانہ شہر کے محلہ صوفیاں میں نصیب ہوئی۔ان دنوں کتاب براہین احمدیہ چھپ رہی تھی اور اس کی کا پیاں حضرت اقدس کی خدمت مبارک میں آتی تھیں۔حضرت اقدس کے چند روزہ قیام کے دوران شہزادہ صاحب آپ کے پاس صوفی احمد جان صاحب کے ساتھ آتے تھے۔بیعت : حضرت صوفی احمد جان حج کے لئے تشریف لے گئے تو شہزادہ صاحب بھی ساتھ تھے۔حج سے واپس آکر موصوف نے ، صوفی احمد جان کے ارشاد و وصیت کے مطابق حضرت مسیح موعود کی بیعت کر لی۔آپ کے چہرہ سے رُشد و سعادت کے آثار نمایاں تھے۔ایک عام آدمی بھی انہیں دیکھ کر مجھتا تھا کہ یہ کوئی ولی اللہ ہے بع عشق الہی وسے منہ تے ولیاں ایہہ نشانی حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: ازالہ اوہام ، آسمانی فیصلہ آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ کے شر کا ءاور مخلصین میں آپ کا ذکر حضرت اقدس نے فرمایا ہے۔دینی خدمات : جماعت احمدیہ لدھیانہ نے آپ کو امام الصلواۃ مقرر کیا۔آپ خطیب بھی تھے اور درس قرآن بھی دیا کرتے تھے۔قرآن شریف کے ساتھ آپ کو عشق تھا۔اس سوز اور خوش الحانی سے قرآن کریم پڑھتے تھے کہ ایک سنگدل سے سنگدل انسان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔آپ کو ایک خاص شرف اور سعادت یہ بھی حاصل ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی کہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود آپ کی امامت میں نماز پڑھتے رہے۔آپ قلم برداشتہ مضامین لکھا کرتے تھے اور سلسلہ احمدیہ کی اشاعت کے لئے اشتہارات بھی لکھتے تھے اس کے علاوہ آپ نے ایک کتاب انوار