تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page xi
vii حکم پا کر بیعت لینے کا اعلان فرمایا اور اس کا اشتہار یکم دسمبر 1888ء اور 12 /جنوری 1889ء میں دیا۔مارچ 1889ء میں پہلی بیعت لی اور جب احباب نے آپ کے ہاتھ پر تو بہ واخلاص اور اطاعت کا عہد باندھا تو ہر بیعت کنندہ سے یہ اقرار لیا جاتا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔ابتدائی بیعت میں وہی لوگ شامل تھے جو پہلے سے آپ کے زیر اثر اور آپ کی صداقت کے قائل تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس حقیقت کا منجانب اللہ انکشاف ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام جنہیں عامتہ الناس زندہ آسمان پر خیال کرتے ہیں اور آخری زمانہ میں آمد ثانی کے منتظر ہیں وہ دراصل وفات پاچکے ہیں اور ان کی دوسری آمد کا وعدہ ایک مثیل کے طور پر پورا ہونا تھا اور آپ کو بتایا گیا کہ مثیل مسیح خود آپ ہیں تو اس بارہ میں الہام ہوا کہ : ر مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے وَكَانَ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 406) وَعدُ اللَّهِ مَفْعُولاً اور پھر فرمایا کہ ” مہدی“ اور ”صحیح“ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اور آپ اس کے مصداق ہیں تو آپ کے ان دعاوی کے ساتھ مخالفت کا سخت طوفان اٹھا۔مگر شدید مخالفت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے پاک نفوس دئے جو ایمان وجاں نثاری میں ایک مثال ٹھہرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس امر کا اظہار یوں فرمایا : میں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر کے ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا (فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 35) کی ہیں۔“ اسی طرح ایک دوسری کتاب میں فرمایا :۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قدر بنی آدم کی توبہ کا ذریعہ جو مجھ کو ٹھہرایا گیا یہ اس قبولیت کا نشان ہے جو وو خدا کی رضامندی کے بعد ہوتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنیوالوں میں دن بدن صلاحیت اور تقومی ترقی پذیر ہے میں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔نا پاک دل کے لوگ ان کو کافر کہتے ہیں اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں۔( حاشیہ ضمیمہ انجام آنقم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 315) آنحضرت ﷺ کے صحابہ کو مشیت الہی سے کثرت کے ساتھ جانی و مالی قربانیاں دینی پڑیں جس سے ان کی شاندار ایمانی حالت کا اظہار ہوا۔اب موجودہ دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفقاء کو بھی ایسی قربانیاں دینے کا موقع ملا کہ ان کے ایمانوں کی کیفیت صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ رکھتی ہے اور بلاشبہ وہ جماعت