تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 78 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 78

78 نوٹ: تفصیلی حالات اصحاب احمد جلد ششم میں ملاحظہ فرمائیں۔ماخذ : () آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) سراج منیر روحانی خزائن جلد۱۳۲ (۳) نزول مسیح روحانی خزائن جلده (۴) تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ (۱۵) نورالقرآن نمبر ا روحانی خزائن جلد ۹ (۶) اصحاب احمد جلد ششم (۷) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۴۶۔(۸) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۲ء(۹) مقاله احمد بیت ضلع گوجرانوالہ میں۔☆ ۳۶۔حضرت میاں عبداللہ صاحب پٹواری سنوری - ولادت : ۱۸۶۱ء۔بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات: ۷/اکتوبر ۱۹۲۷ء تعارف: حضرت مولوی عبد اللہ سنوری رضی اللہ عنہ بڑے سعید فطرت انسان تھے اور بچپن ہی سے اہل اللہ سے تعلق قائم رکھنے کا شوق تھا۔آپ کا سن ولادت ۱۸۶۱ ء ہے آپ کے والد صاحب کا نام کرم بخش ہے جنہیں براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ سے حضرت اقدس سے تعلق عقیدت تھا۔براہین احمدیہ کے خریدار اور چندہ دہندگان میں سے تھے۔حضرت اقدس کی زیارت و بیعت : آپ کے ماموں مولوی محمد یوسف صاحب سنوری نے ۱۸۸۲ء میں آپ کو بتایا کہ قادیان میں ایک بزرگ نے دس ہزار روپیہ انعام مقرر کر کے ایک کتاب بھنی شروع کی ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بڑا کامل ہے۔اس کی زیارت کے لئے چلا جا۔حضرت مولوی صاحب کو یہ سن کر ایسا ولولہ اٹھا کہ سیدھے قادیان روانہ ہو گئے اور بٹالہ سے پیدل چل کر قادیان پہنچے اور دروازے پر دستک دی۔حضور باہر تشریف لائے۔حضور کا چہرہ دیکھتے ہی دل میں بے حد محبت پیدا ہوگئی۔فرماتے ہیں:۔اس وقت تک میں نے براہین احمدیہ یا اس کا اشتہار خود نہیں دیکھا تھا۔یہاں آ کر بھی کوئی دلائل حضور یا کسی اور سے نہیں سنے بلکہ میری ہدایت کا موجب صرف حضور کا چہرہ مبارک ہی ہوا۔“ آپ نے ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو بیعت اولی کے موقع پر شرف بیعت حاصل کیا۔رجسٹر بیعت میں آپ کا نمبر بیعت اا ہے۔بوقت بیعت آپ غوث گڑھ تحصیل سر ہند ریاست پٹیالہ میں مقیم تھے۔حضرت اقدس کی رفاقت و خدمت حضرت مولوی صاحب کو براہین احمدیہ کی تالیف واشاعت کے آغاز میں ہی حاضری کی سعادت نصیب ہوئی اور جلد چہارم کے طبع کے کام میں خدمت کا موقع ملا اور بعد میں سرخی کے چھینٹوں والے نشان کے ساتھ آپ کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید ہو گیا۔حضرت اقدس کے ہوشیار پور، لدھیانہ، دہلی اور دیگر سفروں میں آپ بھی ہمراہ رہے۔جب پہلی دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوئے تو اس وقت آپ کی ابتدائی عمر تھی۔اس کے بعد آخری لمحہ تک اخلاص و وفا میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا اور اس تعلق وفا میں